خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 229 of 644

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 229

خلافة على منهاج النبوة ۲۲۹ جلد سوم ہوتی ہیں جن کا ثابت کرنا یا ر ڈ کرنا مشکل ہوتا ہے اور ان کی بنیا دایسے بار یک اصول پر ہوتی ہے کہ ان کی وجہ سے کوئی منطقی نتیجہ نکا لنا قریباً ناممکن ہوتا ہے۔مثلاً دو کمرے ایک سے ہوں اور یہ سوال ہو کہ ان میں سے کس میں بستر بچھانے چاہئیں اور کس کو بیٹھنے اُٹھنے کیلئے استعمال کرنا چاہئے تو یہ ایک ذوقی سوال ہوگا۔لیکن دو شخص اگر اس پر بحث شروع کر دیں کہ کیوں اس میں بستر بچھانا چاہئے اور دوسرے میں اُٹھنا بیٹھنا چاہئے تو یہ بحث خواہ مہینوں کرتے ر ہیں نتیجہ کچھ نہ ہو گا۔تو اس قسم کی ذوقی باتوں کو چھوڑ کر باقی باتوں کو ثابت یا ر ڈ کیا جا سکتا ہے اور اگر اعتراض نا مناسب رنگ میں ہوگا تو یا تو وہ کسی معذور کی طرف سے ہوگا جو بوجہ بڑھاپے کے یا نا تجربہ کاری یا سادگی کے ایسا کرے گا اور اس صورت میں سب محسوس کر لیں گے کہ اس شخص کے الفاظ کی کوئی قیمت نہیں اور اس کو روکنا فضول ہوگا۔ایسی بات پر صرف مسکرا کر یا استغفار کر کے گزر جانا ہی کافی ہوگا۔لیکن اگر ایسا نہ ہو تو مجلس شوری کی رپورٹیں اس پر گواہ ہیں کہ میں نے نامناسب رنگ میں اعتراض کرنے والوں کو ہمیشہ سختی سے روکا ہے اور جنہوں نے غلط تنقید کی اُن کو اس پر تنبیہ کی ہے اور اگر آئندہ بھی ایسا ہوگا تو إِنْشَاءَ الله روکوں گا۔اگر ساری جماعت بھی غلط تنقید کرے گی تو اسے بھی روکوں گا اور خدا تعالیٰ کے فضل سے ڈروں گا نہیں۔اس قسم کا لحاظ میں نے کبھی نہیں کیا کہ غلط طریق اختیار کرنے پر کسی کو تنبیہہ نہ کروں۔ہاں اس وجہ سے چشم پوشی کرنا کہ کام کرنے والوں سے غلطیاں بھی ہو جاتی ہیں اور بات ہے۔ایسی چشم پوشی میں جماعت سے بھی کرتا ہوں اور کارکنوں سے بھی۔ورنہ میں نہ جماعت سے ڈرتا ہوں اور نہ انجمن سے اور جب بھی میں نے موقع دیکھا ہے جماعت کو اس کے فرائض کی طرف توجہ دلائی ہے اور انجمن کو بھی۔اس سوال کا تیسرا حصہ جو پہلے سے ملتا جلتا بھی ہے اور علیحدہ سوال بھی وہ یہ ہے کہ تنقید ایسے رنگ میں کی جاتی ہے کہ جس سے ناظروں کی بے دُعبی ہوتی ہے۔لیکن میں اس سے بھی متفق نہیں ہوں۔جو لوگ خدا تعالیٰ کے دین کے کام کیلئے کھڑے ہوں ان کی بے رُعبی نہیں ہو سکتی۔جب تک جماعت میں اخلاص اور ایمان باقی ہے کوئی ان کی بے رعبی نہیں کر سکتا۔ان کے ہاتھ میں سلسلہ کا کام ہے۔پس جو ان کی بے دُعبی کرے گا یہ سمجھ کر