خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 9 of 644

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 9

خلافة على منهاج النبوة جلد سوم مومن بھی ہو۔اور جو اس کے متعلق بولتے وقت اپنے الفاظ کو نہیں دیکھے گا تو یا درکھو کہ وہ کا فر ہو کر مرے گا۔اس آیت میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم مخاطب ہیں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے يايُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لا تَقُولُوارًا عِنَا وَقُولُوا انظرنا مگر جس کیلئے ادب کا حکم ہوتا ہے وہ بھی اس آیت میں داخل ہوتا ہے۔خدا نے حضرت ابو بکر کو اس مقام پر کھڑا کیا تھا جو ادب کی جگہ تھی۔جس وقت اختلاف شروع ہوا آپ نے کہا کہ میں اُس وقت تک تم لوگوں سے لڑوں گا خواہ تمام جہان میرے برخلاف ہو جائے جب تک یہ لوگ اگر ایک رستی بھی جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو دیتے تھے نہیں دیں گے۔سے پس یہ مت سمجھو کہ حفظ مراتب نہ کرنا کوئی معمولی بات ہے اور کسی خاص شخص سے تعلق رکھتا ہے۔بلکہ خواہ دینی ہو یا دنیا وی خلافت جب ان کے لئے ادب کا حکم ہے سب کے لئے ضروری ہے کہ اس کا ادب کیا جائے۔کوئی شخص اگر با دشاہ کا ادب نہیں کرے گا تو جانتے ہو وہ سزا سے بچ جائے گا ؟ میں نے کئی دفعہ سنایا ہے کہ انشاء اللہ خان بڑا شاعر تھا اور ہمیشہ اس امر کی کوشش کیا کرتا تھا کہ بادشاہ کی تعریف میں دوسروں سے بڑھ کر بات کہے۔دربار میں بادشاہ کی تعریف ہونے لگی کسی نے کہا ہمارے بادشاہ کیسے نجیب ہیں۔انشاء اللہ خان نے فوراً کہا نجیب کیا حضور تو انجب ہیں۔اب انجب کے معنی زیادہ شریف کے ہیں اور ساتھ ہی لونڈی زادہ کے بھی۔اتفاق یہ ہوا کہ بادشاہ تھا بھی لونڈی زادہ۔تمام دربار میں سناٹا چھا گیا اور سب کی توجہ لونڈی زادہ کی طرف ہی پھر گئی۔بادشاہ کے دل میں بھی یہ بات بیٹھ گئی اور انشاء اللہ خان کو قید کر دیا جہاں وہ پاگل ہو کر مر گیا۔۔پس زبان سے محض خلیفہ اسیح خلیفہ اسیح کہنا کچھ نہیں۔مجھے آج ہی ایک خط آیا ہے جس میں اس خط کا لکھنے والا لکھتا ہے کہ آپ نے جو فیصلہ کیا ہے ، وہ غریب سمجھ کر ہمارے خلاف کیا ہے۔اب اگر فی الواقع ایسی ہی بات ہو کہ کوئی شخص فیصلوں میں درجوں کا خیال رکھے تو وہ تو اول درجہ کا شیطان اور خبیث ہے چہ جائیکہ کہ اس کو خلیفہ کہا جائے۔دیکھو میں نے ان