خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 10 of 644

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 10

خلافة على منهاج النبوة جلد سوم لوگوں کی بھی کچھ پرواہ نہیں کی جو میرے خیال میں سلسلہ کے دشمن تھے۔پس میں کسی انسان کی کچھ بھی پرواہ نہیں کرتا خواہ سب کے سب مجھ سے علیحدہ ہو جائیں کیونکہ مجھ کو کسی انسان نے خلیفہ نہیں بنایا بلکہ خدا نے ہی خلیفہ بنایا ہے۔اگر کوئی انسان کی ہی حفاظت میں آئے تو انسان اس کی کچھ حفاظت نہیں کر سکتا۔خدا ایسے شخص کو ایسے امراض میں مبتلا کر سکتا ہے جن میں پڑ کر بُری طرح جان دے۔میں اس خلافت کو جو کسی انسان کی طرف سے ہو لعنت سمجھتا ہوں۔نہ مجھے اس کی پرواہ ہے کہ مجھے کوئی خلیفہ امسیح کہے۔میں تو اُس خلافت کا قائل ہوں جو خدا کی طرف سے ملے بندوں کی دی ہوئی خلافت میرے نزدیک ایک ذرہ کے بھی برابر قدرنہیں رکھتی۔مجھے کہا گیا ہے کہ میں انصاف نہیں کرتا غریبوں کی خبر گیری نہیں کرتا۔پس اگر میں عادل نہیں ہوں تو میرے ساتھ کیوں تعلق رکھتا ہے۔جو عدل نہیں کرتا وہ کوئی حقیقت نہیں رکھتا ایسے لوگوں کا مجھے کوئی نقصان نہیں مجھے تو اس سے بھی زیادہ لکھا گیا ہے۔قاتل مجھ کو کہا گیا۔سلسلہ کو مٹانے والا غاصب اور اسی قسم کے اور بُرے الفاظ سے مجھ کو مخاطب کیا گیا ہے۔پس اس کے مقابلہ میں تو یہ کچھ بھی نہیں۔ہر ایک وہ شخص جو مقدمہ کرتا ہے وہ اپنے تئیں ہی حق پر سمجھتا ہے لیکن عدالت جو فیصلہ کرتی ہے وہ اس کو قبول کرنا پڑتا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ فَلَا وَرَبِّكَ لَا يُؤْمِنُونَ حَتَّى يُحَكِّمُوكَ فِيمَا شَجَرَ بَيْنَهُمْ " جب تک یہ لوگ کامل طور پر تیرے فیصلوں کو نہ مان لیں یہ مومن ہو ہی نہیں سکتے۔جب لوگوں کو عدالتوں کے فیصلوں کو ماننا پڑتا ہے تو خدا کی طرف سے مقرر شدہ خلفاء کے فیصلوں کا انکار کیوں۔اگر دنیا وی عدالتیں سزا دے سکتی ہیں تو کیا خدا نہیں دے سکتا۔خدا کی طرف سے فیصلہ کرنے والے کے ہاتھ میں تلوار ہے مگر وہ نظر نہیں آتی اس کی کاٹ ایسی ہے کہ دور تک صفایا کر دیتی ہے۔دنیاوی حکومتوں کا تعلق صرف یہاں تک ہے مگر خدا وہ ہے جس کا آخرت میں بھی تعلق ہے۔خدا کی سزا گو نظر نہ آوے مگر حقیقت میں بہت سخت ہے۔اپنی تحریروں اور تقریروں کو قابو میں لا ؤ اگر تم خدا کی قائم کی ہوئی خلافت پر اعتراض کرنے سے