خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 215 of 644

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 215

خلافة على منهاج النبوة ۲۱۵ جلد سوم حضرت علی کی شہادت کے بعد کے واقعات سے متعلق خطبه جمعه ۲۱ / جنوری ۱۹۳۸ء میں حضرت علیؓ کی شہادت کے بعد کے واقعات کا ذکر کرتے ہوئے حضور نے فرمایا:۔کیا عجیب نظارہ ہمیں نظر آتا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی مسجد میں حضرت علی کی شہادت کے بعد معاویہ ہزاروں مسلمانوں کے درمیان کھڑے ہوتے ہیں۔وہی معاویہ جو فتح مکہ تک برابر رسول کریم کیخلاف لڑتے رہے تھے اور کھڑے ہو کر مسلمانوں سے مخاطب ہو کر کہتے ہیں کہ اے مسلمانو ! تم جانتے ہو ہمارا خاندان عرب کے رؤسا میں سے ہے اور ہم لوگ اشراف قریش میں سے ہیں۔پس آج مجھ سے زیادہ حکومت کا کون مستحق ہوسکتا ہے اور میرے بعد میرے بیٹے سے کون زیادہ مستحق ہوسکتا ہے۔اُس وقت حضرت عبد اللہ بن عمرؓ مسجد کے ایک کونے میں بیٹھے ہوئے تھے۔وہ عبد اللہ بن عمرؓ جن کو حضرت عثمان اور حضرت علی کی موجودگی میں صحابہ نے خلافت کا حق دار قرار دیا تھا اور حضرت عمرؓ سے خواہش کی تھی کہ آپ اپنے بعد ان کو خلافت پر مقررفرما ئیں کیونکہ مسلمان زیادہ سہولت سے اُن کے ہاتھ پر جمع ہو جائیں گے اور کسی قسم کے فتنے پیدا نہیں ہوسکیں گے۔لیکن حضرت عمرؓ نے جواب دیا میں اسکی نیکی کو جانتا ہوں اور اس کے مقام کو پہچانتا ہوں لیکن یہ رسم میں نہیں ڈالنا چاہتا کہ ایک خلیفہ اپنے بعد اپنے بیٹے کو خلیفہ مقرر کر دے اور خصوصاً جبکہ ا کا برصحابہ زندہ موجود ہیں اس لئے میں اسے مشورہ میں تو شامل رکھوں گا لیکن خلافت کا امید وار قرار نہیں دوں گا۔( الفضل ۲۵ جنوری ۱۹۳۸ء)