خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 216
خلافة على منهاج النبوة ۲۱۶ جلد سوم جو شخص ایک خلیفہ پر حملہ کرتا ہے وہ دراصل سارے خلفاء پر حملہ کرتا ہے خطبه جمعه ۱۸ / فروری ۱۹۳۸ء میں حضور نے فرمایا:۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرمایا کرتے تھے کہ جو شخص مجھ پر حملہ کرے گا اس کے حملہ کی زد تمام انبیاء پر پڑے گی۔اسی طرح جو شخص ایک خلیفہ پر حملہ کرتا ہے وہ دراصل سارے خلفاء پر حملہ کرتا ہے۔چنانچہ میں نے دیکھا ہے قریب کے عرصہ میں مصری احب نے ایک اشتہار شائع کیا ہے جس میں انہوں نے لکھا ہے کہ حضرت عثمان نے جب فلاں فلاں غلطیاں کیں اور مسلمانوں نے آپ سے مطالبہ کیا کہ آپ خلافت سے دستبردار ہو جائیں تو گوانہوں نے الگ ہونے سے انکار کر دیا مگر مسلمانوں نے تو بہر حال ایک رنگ میں انہیں معزول کر ہی دیا۔گویا حضرت عثمان اسی بات کے مستحق تھے کہ خلافت سے معزول کئے جاتے حالانکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عثمان کے متعلق بار ہا یہ فرمایا ہے کہ انہوں نے جنت خرید لی اور وہ جنتی ہیں لے اور ایک دفعہ صلح حدیبیہ کے موقع پر جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں سے دوبارہ بیعت لی اور حضرت عثمان اُس وقت موجود نہ تھے تو آپ نے اپنا ہاتھ دوسرے ہاتھ پر رکھا اور فرمایا یہ عثمان کا ہاتھ ہے میں اُس کی طرف سے اپنے ہاتھ پر ہاتھ رکھتا ہوں۔اس طرح آپ نے اپنے ہاتھ کو حضرت عثمان کا ہاتھ قرار دیا۔پھر ایک دفعہ آپ سے فرمایا۔اے عثمان ! خدا تعالیٰ تجھے ایک قمیص پہنائے گا منافق چاہیں گے کہ وہ تیری اس قمیص کو اُتار دیں مگر تو اُس قمیص کو اُتار یو نہیں ہے۔اب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تو حضرت عثمان سے یہ فرماتے ہیں کہ اس قمیص کو نہ اُتارنا اور جو تم