خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 210
خلافة على منهاج النبوة ۲۱۰ جلد سوم کے پورا کرنے کیلئے میں نے کوئی سازش نہیں کی۔اس سے زیادہ میں اور کیا ذریعہ تسلی دلانے کیلئے اختیار کر سکتا ہوں۔جو اس پر بھی تسلی نہیں پاتا اس کا علاج خدا تعالیٰ کے پاس ہی ہے میرے پاس نہیں۔مگر بد قسمت ہے وہ جو خدا تعالیٰ کے نشانات سے فائدہ اُٹھانے کی بجائے اور بھی گمراہ ہو جاتا ہے۔بے شک خدا تعالیٰ کا یہ قانون ہے کہ يُضِلُّ بِه كَثِيراً وَيَهْدِي به كثيرا لے کچھ لوگ اس سے ہدایت پاتے ہیں اور کچھ گمراہ ہو جاتے ہیں۔مگر اس قاعدہ کے گمراہی والے حصہ میں شامل ہونا کوئی اچھا مقام نہیں کہ انسان اس مقام پر کھڑا ہونے کی کوشش کرے۔پیشگوئیاں ہمارے لئے کوئی نئی چیز نہیں۔ابھی قریب کے زمانہ میں ہم خدا تعالیٰ کے ایک مامور کی آواز سن چکے ہیں۔پیشگوئی کے بعد پیشگوئی ہم نے سنی اور پھر اپنی آنکھوں سے پورا ہوتے دیکھی۔پھر کیا ہوا کہ اتنے قلیل عرصہ میں لوگ اس آواز سے نا آشنا ہو گئے اور کیوں نہ ہوا کہ وہ خدا تعالیٰ کی آواز سے فائدہ اُٹھاتے اور انکار کر کے اپنے گناہوں کے بار کو زیادہ نہ کرتے۔اے زمین اور آسمان! تو گواہ رہ کہ میں ان الفاظ کے بیان کرنے میں جو میں نے بیان کئے تھے جھوٹا نہ تھا۔میں نے وہی کہا جو میرے دل اور کانوں پر نازل ہوا اور میں نے افتراء نہیں کیا اور میں خدا تعالیٰ پر افتراء کرنے کو لعنتوں کا کام سمجھتا ہوں۔اور مجھے ایسا کہنے کی بھی ضرورت نہیں کیونکہ وہ خود کہہ چکا ہے کہ من آظلَمُ مِمَّنِ افْتَرَى عَلَى اللهِ كَذِبًا میں نے صرف وہی کہا جو میرے روحانی کانوں نے سُنا اور میرے دل نے محسوس کیا اور اسی دفعہ نہیں میں نے بہت دفعہ آسمانی آواز کو سنا ہے۔اور یہ کوئی میرا ذاتی فخر نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کا محض احسان ہے ورنہ میں تو ایک ناکارہ وجود ہوں ، گناہوں سے پر ، خطاؤں سے بھرا ہوا مگر میں کیا کروں کہ اللہ تعالیٰ فیصلہ کر چکا ہے کہ وہ مجھ سے اِحیائے اسلام کا کام لے اور اسلام کی عظمت کو میرے ذریعہ سے قائم کرے اور یہ کام ہو کر رہے گا جلد یا بد میر۔مبارک ہے وہ جو اس کام میں میرا ہاتھ بٹاتا ہے اور افسوس اُس پر جو میرے راستہ میں کھڑا ہوتا ہے کیونکہ وہ میرا نہیں خدا تعالیٰ کا مقابلہ کرتا ہے جس نے مجھ سے گنہگار کو اپنے جلال کے اظہار کا ذریعہ بنایا۔کاش ! وہ تو بہ کرتا اور خدا تعالیٰ کے اشارہ کو سمجھتا ، کاش ! وہ اپنے آپ کو اس خطرناک مقام