خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 209 of 644

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 209

خلافة على منهاج النبوة ۲۰۹ جلد سوم کے عشق کے بعد اس کے بندوں کی خدمت میں اپنی زندگی بسر کریں۔ان امور میں مجبور یوں یا غلطیوں کی وجہ سے کوئی کمی آجائے تو آ جائے مگر اس کے ارادہ میں اس بارہ میں کبھی کمی نہیں آئی۔میں اصل مضمون سے دُور چلا گیا۔میں ان لوگوں کی تسلی کیلئے اس سے بھی بڑھ کر ایک قدم اُٹھا تا ہوں اور کہتا ہوں کہ اگر جماعت میں کوئی ایسا شخص ہے جسے میں نے کبھی بھی کسی کے قتل یا مخفی طور پر پیٹنے کا حکم دیا ہو ( مخفی کی شرط میں نے اس لئے لگائی ہے کہ قضاء کی سزاؤں میں ان لوگوں کو جنہیں سزا دینے کا ہم کو شرعی اور قانونی حق ہوتا ہے کبھی بدنی سزا بھی دلوا دیتے ہیں ) تو اسے میں اللہ تعالیٰ کی قسم دے کر کہتا ہوں کہ وہ اس امر کو ظاہر کر دے تا کہ اگر میں جھوٹا ہوں تو دنیا پر میرا جھوٹ کھل جائے۔پھر میں اس سے بھی بڑھ کر ایک اور قدم اُٹھاتا ہوں اور اللہ تعالیٰ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ میں نے ہمیشہ ایسے افعال کو نا پسند کیا ہے جن میں ظلم پایا جائے اور ظاہر اور مخفی ہر طرح ان افعال کو روکنے کی کوشش کرتا رہا ہوں۔ہاں اگر خدا کی بتائی ہوئی تقدیریں پوری ہوں تو ان میں میرا کوئی دخل نہیں۔وہ خدا کا اپنا کام ہے جو وہ کرتا ہے اور مجھ پر اس کی کوئی ذمہ داری عائد نہیں ہوتی۔مجھ پر الزام تبھی آسکتا ہے کہ میرے منصوبہ یا اشارہ سے کوئی بات ہو۔لیکن میں انہیں کہتا ہوں انہوں نے مجھ پر یہ اعتراض کر کے کہ میں پہلے اپنے دشمنوں کی تباہی کے متعلق ایک پیشگوئی کرتا ہوں اور پھر انسانوں کی منت سماجت کر کے اسے پورا کروا تا اور اپنے دشمنوں کو مروا ڈالتا ہوں غیر از جماعت لوگوں کے دلوں میں شبہات پیدا کر دیئے ہیں اور وہ کہتے ہیں کہ ہم بھی یہی کہا کرتے تھے کہ مرزا صاحب نے لیکھرام کے قتل ہونے کی پیشگوئی کی اور پھر ایک آدمی بھیج کر اُسے مروا دیا۔گویا انہوں نے مجھ پر یہ الزام لگا کر ایک ایسا خطرناک حربہ دشمن کے ہاتھ میں دے دیا ہے کہ گو وہ سلسلہ کو نقصان نہیں پہنچا سکتا مگر اس سے وہ بنی اور طعن و تشنیع کا نشانہ ضرور بن جاتا ہے۔انہیں سوچنا چاہئے کہ میں خدا تعالیٰ کی خبر کو کس طرح چھپاؤں۔میں اس بارہ میں بے بس ہوں۔میں قسم کھا سکتا ہوں ، ہر سخت سے سخت قسم کہ میں نے جو خبر دی وہ خدا تعالیٰ کی طرف سے تھی میں نے اپنے پاس سے نہیں بنائی اور میں ہر غلیظ سے غلیظ قسم کھا سکتا ہوں کہ اس خبر