خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 211
خلافة على منهاج النبوة ۲۱۱ جلد سوم پر کھڑا نہ کرتا کیونکہ اس قسم کے اعتراضوں سے وہ جس مصیبت کو اپنے اوپر سے ٹلا نا چاہتا ہے وہ اُس کو ٹلاتا نہیں بلکہ ان کی وجہ سے اپنے آپ کو پہلے سے کہیں زیادہ خدا تعالیٰ کے غضب کے نیچے لے آتا ہے۔میں تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے الفاظ میں اخلاص اور درد کے ساتھ اسے یہی کہتا ہوں کہ اے آنکہ سُوئے من بدویدی بصد تبر از باغبان بترس که من شارخ مشمرم میں آخر میں پھر شیخ صاحب سے اخلاص اور خیر خواہی سے کہتا ہوں کہ جس جس رنگ میں خدا تعالیٰ کی قسم کھانا میرے لئے ممکن تھا میں نے قسمیں کھالی ہیں اور ان کو نصیحت کرتا ہوں کہ وہ تو بہ کریں اور اللہ تعالیٰ سے اپنے گناہوں کی معافی طلب کر یں۔میں نے ان کی باتوں کو سُنا اور صبر کیا اور اس حد تک صبر کیا کہ دوسرے لوگ اس حد تک صبر نہیں کر سکتے۔مگر وہ یقین رکھیں اور اگر وہ یقین نہیں کریں گے تو زمانہ اُن کو یقین دلا دے گا اور اگر اس دنیا میں انہیں یقین نہ آیا تو مرنے کے بعد انہیں اس بات کا یقین آجائے گا کہ انہوں نے مجھ پر وہ بدترین ظلم کیا ہے جو زیادہ سے زیادہ انسان دنیا میں کسی پر کر سکتا ہے۔انہوں نے ان حربوں کو استعمال کیا ہے جن حربوں کے استعمال کی اسلام اور قرآن اجازت نہیں دیتا۔میں نے آج تک خدا تعالیٰ کے فضل سے کبھی دیدہ دانستہ دوسرے پر ظلم نہیں کیا اور اگر کسی ایسے شخص کا مقدمہ میرے پاس آجائے جس سے مجھے کوئی ذاتی رنجش ہو تو میرا طریق یہ ہے کہ میں ہر وقت یہ دعا کرتا رہتا ہوں کہ الہی ! یہ میرے امتحان کا وقت ہے تو اپنا فضل میرے شامل حال رکھ ایسا نہ ہو کہ میں فیل ہو جاؤں۔ایسا نہ ہو کہ میرے دل کی کوئی رنجش اس فیصلہ پر اثر انداز ہو جائے اور میں انصاف کے خلاف فیصلہ کر دوں۔پس میں ہمیشہ دعا کرتا رہتا ہوں تا خدا تعالیٰ مجھے انصاف کی توفیق دے اور میں یقیناً کہہ سکتا ہوں کہ خدا تعالیٰ نے مجھے ہمیشہ انصاف کی توفیق دی ہے۔میں نے شدید سے شدید دشمنوں کی بھی کبھی بدخواہی نہیں کی۔میں نے کسی کے خلاف اُس وقت تک قدم نہیں اُٹھا یا جب تک شریعت مجھے اس قدم کے اُٹھانے کی اجازت نہیں دیتی۔پس وہ تمام الزامات جو وہ مجھ پر مار پیٹ ا مار پیٹ اور قتل وغیرہ کے