خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 208 of 644

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 208

خلافة على منهاج النبوة ۲۰۸ جلد سوم ہو جائے کہ اُس کا خلیفہ بگڑ جائے اور اُس کے افراد بد دیانت ہو جائیں تو پھر اس مرض کا علاج کوئی بندہ نہیں کر سکتا اس کا علاج پھر اللہ تعالیٰ ہی کر سکتا ہے۔اُس وقت پھر اصلاح کا دعویٰ کرنا محض ایک لاف ہے۔اُس کا علاج ایک ہی ہوتا ہے کہ خدا تعالیٰ سے فریاد کی جائے۔حضرت خلیفة المسیح الاوّل فرمایا کرتے تھے کہ اگر تمہیں مجھ پر ایسی بدظنی ہے اور تم سمجھتے ہو کہ یہ جماعت کو تباہ کر رہا ہے تو تم خدا سے کہو کہ وہ مجھے تباہ کر دے۔بندوں کے پاس چیخ و پکار بالکل بے معنی بات ہے۔مصری صاحب کے اسی ساتھی نے جس کے خط کا میں اوپر ذکر کر آیا ہوں یہ بھی لکھا ہے کہ آپ نے سازش کر کے مستریوں پر حملہ کر وایا تھا۔پھر آپ نے سازش کر کے محمد امین کو قتل کروایا اور اب فخر الدین کو مروا دیا ہے۔اور اس کے بعد آپ ہمیں مروانے کی فکر میں ہیں۔مجھے اس قسم کے اعتراض کا جواب دینے کی ضرورت نہیں تھی کیونکہ ہر غلط الزام کا جواب دینے کی نہ ضرورت ہوتی ہے اور نہ اس کا فائدہ ہوتا ہے۔لیکن چونکہ خط لکھنے والے نے آئندہ کا شبہ بھی ظاہر کیا ہے اور میں کسی کو قلق اور اضطراب میں رکھنا نہیں چاہتا اس لئے میں ان کے وسوسہ کو دور کرنے اور ان کے خدشات کو مٹانے کیلئے وہ بات کہتا ہوں جس کی مجھے عام حالات میں ضرورت نہیں تھی اور میں اُس خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں جس کی جھوٹی قسم کھانا لعنتیوں کا کام ہے کہ میں نے کسی کو پٹوانا اور قتل کروانا تو الگ رہا آج تک سازش سے کسی کو چیرہ بھی نہیں لگوائی۔کسی پر انگلی بھی نہیں اُٹھوائی اور نہ میرے قلب کے کسی گوشہ میں یہ بات آئی ہے کہ میں خدانخواستہ آئندہ کسی کو قتل کرواؤں یاقتل تو الگ رہا نا جائز طور پر پٹوا ہی دوں۔اگر میں اس قسم میں جھوٹا ہوں تو اللہ تعالیٰ کی لعنت مجھ پر اور میری اولا د پر ہو۔ان لوگوں نے میری صحبت میں ایک لمبا عرصہ گزارا ہے۔اگر یہ لوگ تعصب سے بالکل ہی عقل نہ کھو چکے ہوتے تو یہ ان باتوں سے شک میں پڑنے کی بجائے خود ہی ان باتوں کو رڈ کر دیتے۔خدا تعالیٰ نے مجھے ظالم نہیں بنایا ، اُس نے مجھے ایک ہمدرد دل دیا ہے جو ساری عمر دنیا کے غموں میں گھلتا رہا اور گھل رہا ہے۔ایک محبت کرنے والا دل جس میں سب دنیا کی خیر خواہی ہے، ایک ایسا دل جس کی بڑی خواہش ہی یہ ہے کہ وہ اور اس کی اولا د اللہ تعالیٰ