خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 207 of 644

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 207

خلافة على منهاج النبوة ۲۰۷ جلد سوم یہ بات پہنچی تو میں نے جواب دیا کہ جب وہ سلسلہ پر اعتراض کرنے لگے تھے تو کیا انہوں نے خلیفہ سے اجازت لے لی تھی؟ اگر ان میں اتنا ہی اخلاص تھا تو چاہئے تھا کہ وہ اپنے اعتراضات کا بھی خلیفہ وقت کے سوا اور کسی کے سامنے ذکر نہ کرتے۔جب اعتراض کرنے کا وقت تھا اُس وقت تو اوروں کے سامنے ہی اعتراض ہوتے رہے مگر جب جواب دینے کا وقت آیا تو کہہ دیا کہ میں خلیفہ کے سوا اور کسی کو جواب نہیں دے سکتا۔اصل بات یہ ہے کہ جب کسی انسان کے دل میں فتنہ پیدا ہو جاتا ہے تو وہ نہ مانوں نہ مانوں کی رٹ لگا تا رہتا ہے۔جب کمیشن میں شیخ مصری صاحب کے دوست مقرر کئے گئے تو انہوں نے کہہ دیا کہ یہ پیڈا ایجنٹ (PAID AGENT) ہیں۔ایک کو مقد مے مل جاتے ہیں اور دوسرے کو خلیفہ وقت کے ایک رشتہ دار نے ضمانت دی ہوئی ہے۔اور جب ایسے لوگ مقرر کئے گئے جن پر یہ اعتراض نہیں پڑ سکتا تھا تو یہ کہہ دیا گیا کہ خلیفہ وقت کے سوا ہم کسی کے سامنے بات نہیں کر سکتے۔9966 پس میں نے تو چاہا تھا کہ اگر ہماری جماعت کے کسی فرد کی طرف سے ان پر سختی ہوئی ہو تو اس کا ازالہ کروں مگر انہوں نے خود اس کو قبول نہیں کیا۔میں یہ ہرگز نہیں کر سکتا تھا کہ سلسلہ احمدیہ کے جھگڑوں میں غیر احمدیوں کو جج مقرر کروں۔ہمیشہ اُمت محمدیہ میں اُمت محمدیہ کے افراد ہی باہمی جھگڑوں کا تصفیہ کرتے رہے ہیں۔اس پر اگر کسی کو اعتراض ہے تو یہ میرے بس کی بات نہیں۔خلفائے اسلام بھی بعض دفعہ دیوانی مقدموں میں بلائے گئے ہیں مگر وہ اُنہی قاضیوں کے پاس گئے ہیں جنہیں انہوں نے خود مقرر کیا تھا۔حضرت عمرؓ اور حضرت علی رضی اللہ عنہما پر اگر کوئی دیوانی مقدمہ ہوا ہے تو اُنہی قاضیوں کے پاس جنہیں حضرت عمرؓ اور حضرت علیؓ نے مقرر کیا تھا اُس وقت کسی نے نہیں کہا کہ قاضی تو آپ کا اپنا مقرر کردہ ہے اس سے ہم فیصلہ کیونکر کر ا سکتے ہیں ، وہ آپ کی طرفداری کرے گا۔وہ جانتے تھے کہ یہ مسلمان قاضی ہیں اور مسلمان قاضی دیانت داری سے ہی کام لیں گے۔ان میں یہ بدظنی نہیں تھی کہ قاضی تو ان کا مقرر کردہ ہے وہ کس طرح صحیح فیصلہ کر سکتا ہے۔اور اگر کسی وقت قوم کی حالت ایسی گندی