خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 185
خلافة على منهاج النبوة ۱۸۵ جلد سوم زیادہ کر دیتی ہے بلکہ اسے بجھنے سے بھی محفوظ کر دیتی ہے۔مگر بعض لیمپ ہری کین سے بھی زیادہ طاقتور ہوتے ہیں اور جو بڑے بڑے لیمپ کمروں کو روشن کرنے کیلئے جلائے جاتے ہیں اُن کو دیکھو تو تمہیں معلوم ہوگا کہ اُن کی روشنی تیز کرنے کیلئے ان کے پیچھے ایک اس قسم کی چیز لگا دی جاتی ہے جو روشنی کو آگے کی طرف پھینکتی ہے۔پرانے زمانوں میں لوگ اس غرض کیلئے لیمپ کو طاقچہ میں رکھ دیا کرتے تھے اور اس زمانہ میں اس کی ایک مثال ٹارچ ہے۔ٹارچ پیچھے سے لمبی چلی آتی ہے اور اس کے آگے اس پر ایک نسبتا بڑا خول چڑھا دیتے ہیں جو بلب کے تین طرف دائرہ شکل میں پھیلا ہوا ہوتا ہے۔جس سے غرض یہ ہوتی ہے کہ وہ روشنی کو آگے کی طرف پھیلا دے۔اگر اس خول کو اُتار لیا جائے تو ٹارچ کی روشنی دس پندرہ گز تک رہ جاتی ہے۔لیکن اس خول کے ساتھ وہی روشنی بعض دفعہ پانچ سو گز ، بعض دفعہ ہزار گز اور بعض دفعہ دو دو ہزار گز تک پھیل جاتی ہے۔یہ روشنی کو دور پھینکنے والا جو خول ہوتا ہے اسے انگریزی میں ری فلیکٹر (REFLECTOR) کہتے ہیں۔اس ری فلیکٹر کی وجہ سے ٹارچ کی روشنی بعض دفعہ ہزار گز اور بعض دفعہ دو ہزار گز تک چلی جاتی ہے اور بڑی طاقت کے لیمپ تو ری فلیکٹر کی وجہ سے بہت دور دور تک روشنی پہنچا دیتے ہیں۔ہمارے مینارۃ المسیح پر جب روشنی کرنے کا سوال پیدا ہوا اور اس پر بحث ہوئی کہ لیمپ کیسے لگائے جائیں تو ری فلیکٹر لگوانے کا سوال زیر بحث آیا اور ماہرین فن نے بتایا کہ پانچ سو طاقت کی اگر یتی لگائی جائے اور اس پر اعلیٰ درجہ کا ری فلیکٹر لگا دیا جائے تو اس سے کئی گنے طاقت تک کی روشنی پیدا ہو سکتی ہے۔مگر چونکہ ری فلیکٹر بہت گراں آتے تھے غالباً اسی لئے پھر وہ منگوائے نہیں گئے تو پوری روشنی چمنی کے ذریعہ ہوتی ہے اور پھر اس روشنی کو دور پھینکنے کے لئے اس کے پیچھے ایک ایسی چیز کی ضرورت ہوتی ہے جو اسے تین جہت سے روک کر سامنے کی طرف لے جائے۔اس طرح روشنی مکمل ہو جاتی ہے اور لوگ اس سے پوری طرح فائدہ اُٹھا سکتے ہیں۔تو اللہ تعالیٰ ان آیات میں یہ بیان فرماتا ہے کہ یہ تین چیزیں ہیں جن سے نور مکمل ہوتا ہے۔ان میں سے ایک تو شعلہ ہے جو اصل آگ ہے اور جس کے بغیر کوئی نور ہو ہی نہیں سکتا۔روحانی دنیا میں وہ شعلہ اللہ تعالیٰ کا نور ہے اور چمنی جس سے وہ نور روشن