خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 186
خلافة على منهاج النبوة ۱۸۶ جلد سوم ہوتا ہے وہ خدا تعالیٰ کے انبیاء ہیں۔جیسا کہ میں نے بتایا ہے دنیا کے ہر ذرہ سے خدا تعالیٰ کا نور ظاہر ہے مگر وہ نور لوگوں کو نظر نہیں آتا۔ہاں جب خدا کا نبی آتا اور اسے اپنے ہاتھ میں لے کر دنیا کے سامنے پیش کرتا ہے تب ہر شخص کو وہ نور نظر آنے لگ جاتا ہے۔بالکل اسی طرح جس طرح بنتی جب جلائی جائے تو ہوا کا ذرا سا جھونکا بھی اُسے بجھا دیتا ہے۔اس میں سے دھواں نکل رہا ہوتا ہے مگر جونہی اس پر شیشہ رکھا جاتا ہے اندھیرا سب دور ہو جاتا ہے، تاریکی سب مٹ جاتی ہے اور وہی نور آنکھوں کے کام آنے لگ جاتا ہے۔اس کا یہ مطلب نہیں کہ اصل چیز شیشہ ہے اصل چیز تو وہ نور ہی ہے جو بتی میں سے نکل رہا ہوتا ہے۔مگر چونکہ وہ نور دھویں کی شکل میں ضائع ہو رہا ہوتا ہے اس لئے لوگ اس سے اُس وقت تک فائدہ نہیں اُٹھا سکتے جب تک اُس پر شیشہ نہیں چڑھایا جاتا۔ہاں جب شیشہ چڑھ جاتا ہے تو وہی نور جو پہلے ضائع ہو رہا ہوتا ہے ضائع ہونے سے محفوظ ہو جاتا ہے۔پھر چمنی سے مل کر پہلے نور سے ہیں گنے ، سو گنے ، دو سو گئے ، ہزار گنے بلکہ دو ہزار گنے زیادہ تیز ہو جاتا ہے۔یہ شیشے اور گلوب دراصل انبیاء کے وجود ہوتے ہیں جو خدا کے اس نور کو جو قدرت میں ہر جگہ پایا جاتا ہے لیتے ہیں اور اپنے گلوب اور چمنی کے نیچے رکھ کر اس کا ہر حصہ انسانوں کے استعمال کے قابل بنادیتے ہیں۔نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ساری دنیا اس نور کو دیکھنے لگ جاتی ہے اُس کی آنکھیں روشن ہو جاتی ہیں اور وہ اس سے فائدہ حاصل کر نے لگ جاتی ہے۔اس مضمون کو اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں بھی بیان فرمایا ہے۔چنانچہ حضرت موسی کے ذکر میں فرماتا ہے کہ حضرت موسی نے اللہ تعالیٰ کے نور کو آگ کی شکل میں دیکھا۔وہ فرماتے ہیں ان انست تارا ہے میں نے ایک آگ دیکھی ہے۔اس فقرہ سے صاف ظاہر ہے کہ دوسرے لوگ اس آگ کو نہیں دیکھ رہے تھے۔اس میں یہ بتایا گیا ہے کہ نبی کے وجود میں ظاہر ہونے سے پہلے اللہ تعالیٰ کا ظہور اس دنیا میں بطور نار کے ہوتا ہے۔یعنی کوئی تیز نظر والا ہی اسے دیکھتا ہے۔اس کی روشنی تیز نہیں ہوتی لیکن جب وہ نبی میں ظاہر ہوتا ہے تو پھر وہ نور ہو جاتا ہے یعنی لیمپ کی طرح اس کی روشنی تیز ہو جاتی ہے۔نبوت میں آکر یہ نو ر مکمل تو ہو جاتا ہے لیکن اس کا زمانہ پھر بھی محدود رہتا ہے۔کیونکہ نبی بھی موت کا شکار ہوتے ہیں۔