خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 184
خلافة على منهاج النبوة ۱۸۴ جلد سوم چیز جس سے روشنی ہوتی ہوا سے مصباح کہا جاتا ہے اور وہ چونکہ بتی کا گل ہی ہوتا ہے یا بجلی کی وہ تاریں ہوتی ہیں جو بلب کے اندر ہوتی ہیں اور چمکتی ہیں اس لئے عربی زبان میں انہیں مصباح کہتے ہیں۔گویا وہ شعلہ جو آگ لگنے کے بعد بتی میں سے نکلتا ہے یا بجلی کی وہ تار جہاں بجلی پہنچتی ہے تو وہ یکدم روشن ہو جاتا ہے وہ مصباح ہیں۔اور اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اس کے نور کی مثال ایک طاقچہ کی سی ہے جس میں ایک بتی جل رہی ہو اور پھر وہ بتی ایک زجاجہ میں ہو۔اب تو قادیان میں بجلی آگئی ہے اور لوگوں کا ایک حصہ بجلی جلاتا ہے لیکن پھر بھی اکثر گھروں میں ابھی بجلی نہیں لگی اور وہ لیمپ جلاتے ہیں اور جن کے ہاں بجلی لگی ہوئی ہے ان کی بجلی کی رو بھی جس دن فیل ہو جائے اُس دن اُنہیں لیمپ جلانے پڑتے ہیں۔یا انہیں قادیان سے جب باہر جانا پڑے تو لیمپ دیکھنے اور جلانے کا انہیں اکثر موقع ملتا رہتا ہے۔بہر حال یہ بات ہر شخص جانتا ہے کہ ہری نین (HURRICANE LAMP) روشن کرنے کیلئے جب کوئی شخص دیا سلائی جلاتا اور بتی کو لگاتا ہے تو اُس وقت بتی کی روشنی کی کیا حالت ہوتی ہے۔ایک زرد سا شعلہ بتی میں سے نکل رہا ہوتا ہے اور اُس کا دھواں اُٹھ اُٹھ کر کمرہ میں پھیل رہا ہوتا ہے۔نازک مزاج اشخاص کے دماغ میں وہ دُھواں چڑھتا ہے تو انہیں چھینکیں آنے لگ جاتی ہیں ، بعض کو نزلہ ہو جاتا ہے۔لیکن جو نہی بتی میں سے دھواں نکلتا اور کمرے میں پھیلنے لگتا ہے انسان جلدی سے چمنی پر ہاتھ مارتا اور ہری کین کا ہینڈل دبا کر اُسے بتی پر چڑھا دیتا ہے۔نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اُسی وقت دُھواں جاتا رہتا ہے اور اس شعلہ کا رنگ ہی بدل جاتا ہے اور اس کی پہلی روشنی سے بعض دفعہ ہیں گئے ، بعض دفعہ تمیں گنے ، بعض دفعہ پچاس گنے ، بعض دفعہ سو گئے اور بعض دفعہ دو سو گنے تیز روشنی پیدا ہو جاتی ہے اور تمام کمرہ روشن ہو جاتا ہے۔پھر زائد بات اس چمنی یا گلوب سے یہ پیدا ہو جاتی ہے کہ وہ بھی بجھتی نہیں۔تیز بارشوں کے ایام میں رات کے وقت لوگ ہری کین لے کر باہر چلے جاتے ہیں۔آندھی آرہی ہوتی ہے ، طوفان اُٹھ رہا ہوتا ہے، چھتیں ہل رہی ہوتی ہیں ، عمارتیں کانپ رہی ہوتی ہیں ، پیر لڑ کھڑا رہے ہوتے ہیں مگر وہ روشنی جو انسان ہاتھ میں اُٹھائے ہوتا ہے نہیں بجھتی کیونکہ اُس کی چمنی اس کے ماحول کو محفوظ کر دیتی ہے۔تو چمنی نہ صرف اس کی روشنی کو کئی گنا