خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 177 of 644

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 177

خلافة على منهاج النبوة 122 جلد سوم اے سورج اور اے چاند ! تو مجھ سے ہے اور میں تجھ سے ہوں۔اب سورج اور چاند آپس میں ایک خاص نسبت رکھتے ہیں۔سورج براہِ راست روشنی ڈالتا ہے لیکن چاند براہِ راست روشنی نہیں ڈالتا بلکہ سورج سے روشنی لے کر دنیا کی طرف پہنچاتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام لکھتے ہیں يَاقَمَرُ يَا شَمُسُ أَنْتَ مِنِّي وَأَنَا منگ میں ایک دفعہ خدا نے مجھے سورج قرار دیا ہے اور ایک دفعہ مجھے چاند قرار دیا ہے اور فرماتے ہیں کہ جب خدا تعالیٰ نے مجھے سورج قرار دیا تو اپنے آپ کو چاند قرار دیا ہے اور جب مجھے چاند قرار دیا ہے تو اپنے آپ کو سورج قرار دیا ہے۔اب یہ جو بات ہے کہ خدا سورج ہے اور بندہ چاند ، یہ بالکل واضح ہے اور ہر شخص سمجھ سکتا ہے کہ بندہ اسی طرح خدا کے نور سے لیتا اور اسے دنیا میں پھیلاتا ہے جس طرح چاند سورج سے نور لیتا اور اسے دنیا میں پھیلاتا ہے۔مگر یہ جو خدا نے فرمایا کہ تو سورج ہے اور خدا کی ذات بمنزلہ چاند ہے یہ بات بظاہر حقیقت سے دور معلوم ہوتی ہے۔بھلا بندے کی کیا حقیقت ہے کہ وہ سورج کہلائے اور خدا اس کے مقابلہ میں چاند کہلائے۔تو چونکہ یہ بات بظاہر قابل اعتراض نظر آتی تھی اس لئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ اصل بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کا وجود دنیا سے مخفی ہوتا ہے اور جب وہ ظاہر ہوتا ہے تو انبیاء کے ذریعہ ہی ظاہر ہوتا ہے۔پس چونکہ خدا تعالیٰ کے نور کا ظہور انبیاء کے ذریعہ ہوتا ہے اس لئے دنیا والوں کی نگاہ میں نبی سورج اور خدا چاند ہوتا ہے۔کیونکہ جب نبی آتا ہے تب ہی خدا کا چہرہ انہیں نظر آنے لگتا ہے۔اس سے پہلے وہ پوشیدہ ہوتا ہے۔پس گو حقیقتا خدا ہی سورج ہے اور بندہ چاند ہے مگر دنیا والے جن کی نگاہیں کمزور ہوتی ہیں اور جو نبی کے ذریعہ خدا کے جلال اور اس کے جمال کا مشاہدہ کرتے ہیں ان کے لحاظ سے نبی سورج اور خدا چاند ہوتا ہے۔جیسے سورج کی روشنی جب چاند پر پڑے تب وہ چمکتا ہے نہ پڑے تو چاند تاریک رہتا ہے اسی طرح جب تک نبی کا وجود خدا تعالیٰ کو ظاہر نہ کرے وہ مخفی رہتا ہے مگر جب نبوت کی روشنی الوہیت پر پڑتی ہے تو خدا کا وجود ہر ایک کو نظر آنے لگ جاتا ہے۔پس دنیا کے حالات کے مطابق تمثیلی زبان میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ بندہ سورج ہے اور