خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 176 of 644

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 176

خلافة على منهاج النبوة جلد سوم دروازوں سے لگائے جاتے ہیں تو بعض دفعہ لوگ ان دروازوں سے ٹھوکر کھا جاتے ہیں۔وہ سمجھتے ہیں کہ رستہ کھلا ہے حالانکہ وہ آئینہ ہوتا ہے اور رستہ بند ہوتا ہے۔رات کے وقت جب کمرہ میں روشنی ہو تو اُس وقت انسان کیلئے یہ معلوم کرنا بہت مشکل ہوتا ہے کہ منافذ میں شیشہ موجود ہے یا نہیں۔بعض دفعہ شیشہ لگا ہوا ہوتا ہے اور انسان اس کے بہت زیادہ مصفے ہونے کی وجہ سے سمجھتا ہے کہ شیشہ کوئی نہیں۔اور بعض دفعہ شیشہ نہیں ہوتا اور وہ خیال کرتا ہے کہ شیشہ ہے۔پس شیشہ جتنا زیادہ مصفی ہو اُتنا ہی لوگوں کو کم نظر آتا ہے۔مگر انبیاء علیہم السلام کے ذریعہ خدا تعالیٰ کا وجود جو نہایت ہی مخفی اور وراء الورا ہے اسی طرح لوگوں کو نظر آنے لگ جاتا ہے جس طرح شیشہ کے پیچھے جب قلعی کھڑی کر دی جائے تو وہ شکلیں دکھانے کے قابل ہو جاتا ہے۔یہ مضمون ہے جو رڈیا میں میں نے بیان کیا اور اسی مثال پر میری تقر مرختم ہو گئی۔میں نے رؤیا میں اس مضمون کے متعلق کئی آیات بھی بیان کیں مگر جاگنے پر وہ ذہن سے اُتر گئی تھیں۔اس پر میں نے غور کرنا شروع کیا کہ وہ آیتیں کون سی تھیں جو میں رویا میں اس مضمون کو ثابت کرنے کیلئے پڑھ رہا تھا اور جن سے اس مضمون کا میں نے استدلال کیا۔مگر باوجود اس کے کہ میں نے کافی غور کیا مجھے وہ آیتیں سمجھ میں نہ آئیں کیونکہ وہ بھول چکی تھیں۔صرف اس تقریر کا آخری حصہ یا د ر ہا تھا جو یہ تھا کہ انبیاء اور خلفاء کی اللہ تعالیٰ سے وابستگی ایسی ہی ہے جیسے شیشے کے ساتھ چو کٹھا ہوتا ہے اور اس کے پیچھے قلعی لگی ہوئی ہوتی ہے۔وہ اللہ تعالیٰ کے وجود کو دنیا میں قائم رکھتے ہیں۔ان کے ذریعہ خدا ظاہر ہوتا ہے اور انہی کے ذریعہ اس کا وجود عالم میں محفوظ رہتا ہے۔غرض میں نے جن جن امور کو رڈیا میں بیان کیا تھا اُن پر میں نے پھر غور کیا مگر مجھے وہ باتیں یاد نہ آئیں۔گو ابھی جبکہ میں یہ خطبہ پڑھ رہا ہوں مجھے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا ایک الہام یاد آ گیا جس میں اسی مضمون کو بیان کیا گیا ہے اور جس کی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بھی یہی تشریح کی ہے۔گو الفاظ اس کے اور ہیں مگر مفہوم یہی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا ایک الہام ہے جس میں اللہ تعالیٰ آپ کو مخاطب کرتے ہوئے فرماتا ہے۔يَا قَمَرُ يَا شَمْسُ أَنْتَ مِنِّي وَأَنَا مِنْكَ يَا یعنی