خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 178 of 644

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 178

خلافة على منهاج النبوة ۱۷۸ جلد سوم خدا چاند۔یہ بھی ویسی ہی مثال ہے جیسی میں نے رویا میں دی اور اس سے بھی یہی امرظاہر ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی روشنی اور اس کے جلال کو ظاہر کرنے کا ذریعہ انبیاء و خلفاء اور اولیاء وصلحاء ہوتے ہیں۔زمین و آسمان سے خدا کا وجود حق الیقین کے طور پر ثابت نہیں ہوسکتا۔جیسے براہین احمدیہ حصہ پنجم میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس پر مفصل بحث کی ہے اور بتایا ہے کہ زمین و آسمان کی پیدائش پر غور کر کے انسان جس نتیجہ پر پہنچ سکتا ہے وہ صرف یہ ہے کہ اس زمین و آسمان کا کوئی خالق ہونا چاہئے۔مگر یہ کہ وہ ہے اس کا پتہ زمین و آسمان سے نہیں لگتا۔گویا یہ نتیجہ صرف سکنے سے تعلق رکھتا ہے، ہے سے نہیں۔یعنی یہ تو ہوسکتا ہے کہ انسان اس عالم کی صنعتوں پر نظر کر کے صانع کی ضرورت محسوس کرے مگر ضرورت کا محسوس کرنا اور ھے ہے اور اس درجہ عین الیقین تک پہنچنا کہ جس خدا کی ضرورت تسلیم کی گئی ہے وہ در حقیقت موجود بھی ہے یہ اور بات ہے۔اسی لئے آپ نے بتایا کہ جتنے فلسفی عقلی ذریعہ سے خدا تعالیٰ کو معلوم کرنا چاہتے ہیں وہ ٹھو کر کھاتے اور بالآخر دہر یہ بن جاتے ہیں اور زمین و آسمان کی مصنوعات پر غور کرنا انہیں کچھ بھی فائدہ نہیں پہنچا سکتا۔کیونکہ اس غور وفکر کا نتیجہ صرف اس حد تک نکلتا ہے کہ خدا کا وجود ہونا چاہئے۔یہ نتیجہ نہیں نکل سکتا کہ خدا کا وجود ہے۔آپ فرماتے ہیں جب وہ زمین کو دیکھتے ہیں تو اسے دیکھ کر یہ نتیجہ نکالتے ہیں کہ اس کا کوئی پیدا کرنے والا ہونا چاہئے۔جب وہ آسمان کو دیکھتے ہیں تب بھی وہ یہی نتیجہ نکالتے ہیں کہ اس کا کوئی پیدا کرنے والا ہونا چاہئے۔مگر یہ وہ نہیں کہہ سکتے کہ وہ پیدا کرنے والا یقینی طور پر موجود ہے اور اس طرح پھر بھی شبہ رہ جاتا ہے اور انسان خیال کرتا ہے کہ ممکن ہے کوئی مخفی قانون ایسا ہو جس کے ماتحت یہ کارخانہ عالم آپ ہی آپ چل رہا ہو۔جس طرح آجکل کے فلسفی کہتے ہیں کہ اس دنیا کی پیدائش میں خود ہی ایک ایسا قانون مخفی ہے جس کی وجہ سے یہ تمام دنیا چل رہی ہے، کسی خاص وجود کو تسلیم کرنے کی ضرورت نہیں۔غرض آپ نے اس بات پر بحث کی اور یہ ثابت فرمایا ہے کہ فلسفہ اور عقلِ انسانی خدا تعالیٰ کے متعلق انسان کو ہونا چاہئے کی حد تک ہی رکھتے ہیں مگر الہام الہی نبوت کے ذریعہ ” ہے‘ ثابت کرتا ہے۔ہم جب زمین کو دیکھتے ہیں ، ہم جب آسمان کو دیکھتے ہیں تو انہیں دیکھ کر یہ کہتے ہیں