خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 153 of 644

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 153

خلافة على منهاج النبوة ۱۵۳ جلد سوم وہ حصہ بھی معترض ہی مقرر کر دیا کرے گا یا خلیفہ کو مجبور کیا جائے گا کہ ضرور کچھ غیر احمد یوں پر یا غیر مسلموں پر اعتبار کر کے ان میں سے حج مقرر کرے۔اور جب احمدیت خدا تعالیٰ کے فضل سے ترقی کر جائے گی اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی پیشگوئی کے مطابق دوسری اقوام اس کے ماتحت آجائیں گی تو اُس وقت غیر احمدی یا غیر مسلم بھی جانبدار نہ رہیں گے۔اُس وقت آزاد کمیشن کیلئے ممبر کہاں سے لائے جائیں گے۔آیا یہ کوشش کی جائے گی کہ کچھ حصہ دنیا کا بالکل آزاد ر ہے اور اسلامی حکومت میں داخل نہ ہو تا مصری صاحب کے ہم خیالوں کیلئے آزاد کمیشن کے ممبر ملتے رہیں اور پھر یہ بھی سوال ہے کہ اگر آزاد کمیشن یہ کہے کہ مصری صاحب جھوٹے ہیں تو ان کو کیا سزا دی جائے گی خلیفہ کیلئے تو یہ سزا ہوئی کہ وہ غیر احمدیوں کے کہنے پر خلافت سے معزول ہو جائے گا مگر اس کے مقابل پر مصری صاحب کیلئے کیا سزا ہو گی۔آیا ان کیلئے صرف یہ کافی ہوگا کہ ہنس کر کہیں کہ چلو تو بہ کرتے ہیں یا کوئی اور سزا بھی ہوگی۔پھر یہ بھی سوال ہے کہ اگر ان کے خلاف کمیشن فیصلہ کرے تو کیا وہ اس کے فیصلہ کو تسلیم کرتے ہوئے اپنے آپ کو جھوٹا کہیں گے؟ یا یہ کہیں گے کہ خلیفہ ہے تو بد کا رہی مگر کمیشن کی خاطر میں اسے مان لیتا ہوں۔اگر اپنے آپ کو جھوٹا کہیں گے تو اُس وقت وہ براہین کہاں جائیں گے جن کی وجہ سے خلافت سے روگردانی ان کیلئے جائز ہو گئی ہے۔اگر پھر بھی وہ اپنے آپ کو حق پر ہی سمجھتے رہیں گے اور باوجود اس کے خلیفہ کی بیعت کرلیں گے تو آج آپ کو بیعت توڑنے کی کیا مجبوری پیش آئی تھی۔یا آپ کا ارادہ یہ ہے کہ اگر فیصلہ آپ کے حق میں ہوا تو قابلِ قبول ہو گا ورنہ نہیں۔یہ بہت سے سوال ہیں جن کا جواب دینا آزاد کمیشن کے مطالبہ سے پہلے ضروری ہے۔اور امید ہے کہ مصری صاحب جلد ان کا جواب دے کر اپنے نقطہ نگاہ کو واضح کر دیں گے۔بہر حال ہمیں یہ علم ہونا چاہئے کہ وہ آزاد کمیشن کسے کہتے ہیں۔اس کے فیصلہ کی پابندی ان کیلئے ضروری ہوگی یا نہیں۔اسے کون مقرر کرے، کس طرح کرے اور کس کس کو ایسا کمیشن مقرر کرانے کا حق ہے۔ایک سوال اور بھی ہے کہ اگر خلافت کے عزل کا سوال آزاد کمیشن سے طے کرایا جا سکتا ہے تو خلیفہ مقرر بھی کیوں غیر احمدیوں کی ایک کمیٹی سے نہ کروایا جائے۔آخر میں میں