خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 152 of 644

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 152

خلافة على منهاج النبوة ۱۵۲ جلد سوم آزاد کمیشن والے الزامات کی کوئی خاص نوعیت والے الزام ہی آزاد کمیشن کے حقدار ہوں گے تو اس نوعیت کا فیصلہ قرآن وحدیث کی کس سند کے ذریعہ کیا جائے گا ؟ وہ یہ بھی بتائیں کہ آزاد کمیشن کا مطالبہ کرنے کا حق ان کو اگر حاصل ہے تو صرف اس دفعہ ہی یا جب وہ چاہیں جماعت سے اس کا مطالبہ کر لیں۔اور اگر دوسروں کو بھی اس کا حق حاصل ہے تو انہیں بھی ایک ایک دفعہ عمر بھر میں یا جب اور جس وقت کوئی شخص آزاد کمیشن کا مطالبہ کرے فوراً آزاد کمیشن بیٹھ جانی چاہئے۔اور یہ آزاد کمیشن جماعت کے اندر رہنے والے لوگ مانگ سکتے ہیں یا جماعت سے باہر کے لوگ بھی اس کا مطالبہ کر سکتے ہیں۔مثلاً پیغامی اور غیر احمدی اس بارہ میں مطالبہ کریں تو آیا ان کا یہ مطالبہ جائز سمجھا جائے گا یا نا جائز ؟ اگر جماعت سے باہر کے لوگوں کا یہ مطالبہ درست تسلیم نہ کیا جائے تو پھر مصری صاحب جو جماعت سے نکل چکے ہیں ان کو ایسا مطالبہ کرنے کا حق کہاں سے حاصل ہوا ہے۔اور اگر یہ قانون ہے کہ جو جماعت سے قریب زمانہ میں نکلا ہو وہ آزاد کمیشن کا مطالبہ کر سکتا ہے دوسرا نہیں تو پھر وہ یہ بھی بتا ئیں کہ کتنی دیر تک کا مرتد اس قسم کا مطالبہ کر سکتا ہے۔پھر وہ یہ بھی بتائیں کہ آزاد کمیشن سے مراد غیر احمدیوں کا کمیشن ہے یا احمدیوں کا یا مشترک؟ اگر مشترک مراد ہے تو کس کس نسبت سے احمدی اور غیر احمدی ممبر مقرر کئے جائیں گے اور انہیں کون مقرر کرے گا۔اگر خلیفہ مقرر کرے گا تو پھر وہ بقول مصری صاحب آزاد نہ رہے گا اور اگر احمدی مقرر کریں گے تو پھر بھی آزاد کمیشن نہ رہے گا کیونکہ وہ تو پہلے ہی خلیفہ کو حق پر سمجھ رہے ہیں ورنہ مصری صاحب کے ساتھ ہی بیعت تو ڑ کر الگ ہو جاتے اور اگر وہ کہیں کہ نہیں احمدی بہ حیثیت حج مقرر کرنے والے کے دیانتدار ہیں تو پھر غیر احمدی کمیشن کی کیا ضرورت رہی۔پھر احمدی حج ہی کمیشن بن سکتے ہیں۔اسی طرح وہ یہ سوال بھی حل کریں کہ ان ممبران کمیشن کو اگر جماعت احمدیہ نے مقرر کرنا ہے تو کیا ساری جماعت کو اکٹھا ہو کر منتخب کرنا چاہئے یا الگ الگ جماعتیں ایسا انتخاب کریں۔اور اگر غیر احمدیوں نے بھی کوئی حصہ منتخب کرنا ہے تو ان کے انتخاب کا کیا ذریعہ ہوگا۔اور اگر آزاد کمیشن سے مراد یہ ہے کہ آدھے حج معترض تجویز کیا کریں اور آدھے خلیفہ وقت کیا کرے تو پھر سوال یہ ہے کہ اگر غیر احمدی ججوں پر خلیفہ کو اعتبار نہ ہوتو کیا