خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 151
خلافة على منهاج النبوة ۱۵۱ جلد سوم ہو اس لئے میں ان سے ان کے ان الفاظ کے معنے پوچھنا چاہتا ہوں اور اس ضمن میں پہلی بات میں ان سے یہ پوچھتا ہوں کہ:۔پہلے خلفاء کے خلاف بھی بعض لوگوں نے شکایات کی ہیں اور بعض دفعہ ایسے مقدمات عدالتوں میں بھی سنے گئے ہیں ، مصری صاحب بتائیں کہ ان کے فیصلوں کیلئے کس قسم کے کمیشن مقرر ہوئے تھے؟ یا ان خلفاء کے اپنے مقرر کردہ قاضی ہی ان مقدمات کا فیصلہ کرتے تھے ؟ دوسرا سوال یہ ہے کہ آزاد کمیشن مانگنا مصری صاحب کا ہی حق ہے یا اور کسی کا بھی ؟ کیا جب کوئی آکر کہے کہ خلیفہ کے متعلق آزاد کمیشن بٹھایا جائے یہ مطالبہ منظور ہو جانا چاہئے یا صرف اُس وقت جب مصری صاحب اس کا مطالبہ کریں؟ جس طرح پنجابی میں مثل مشہور ہے کہ ” جتھے میاں نور جمال اوتھے مُردہ کھو تا وی حلال“۔غرض وہ بتائیں کہ ہر معترض آزاد کمیشن طلب کر سکتا ہے یا صرف وہی ایسا کر سکتے ہیں۔تیسرا سوال یہ ہے کہ وہ بتائیں کہ آزاد کمیشن سے ان کی مراد کیا ہے؟ کیا مادر پدر آزاد؟ یعنی دہریوں کا کمیشن وہ مانگتے ہیں یا ان کے نزدیک آزاد کمیشن وہ ہے جسے وہ مقرر کریں خلیفہ نہ مقرر کرے؟ اگر یہ دونوں مراد نہیں تو وہ بتائیں کہ ان کا مطلب کیا ہے۔آیا وہ چاہتے ہیں کہ ساری جماعت کو دعوت دی جائے اور پھر ووٹ لئے جائیں کہ کون کون حج مقرر ہو؟ اور ہمیشہ کیلئے یہی طریق ہو کہ جب کوئی الزام لگائے جماعت کو یہاں بلا لیا جائے ؟ اور ضمناً اس بات کا بھی وہ جواب دیں کہ ایسا کرنے پر پچاس ساٹھ ہزار بلکہ لاکھ روپیہ کا خرچ ہوگا وہ مصری صاحب دیں گے یا کون دے گا ؟ پھر یہ ممکن ہے کہ کل کوئی اور اُٹھے اور کہے کہ مصری صاحب نے جو الزام لگائے تھے وہ غلط تھے اب میں یہ الزام لگاتا ہوں ان کی تحقیقات کی جائے اور ادھر لوگ مصری صاحب کے کمیشن سے فارغ ہو کر گھر پہنچیں اور اُدھر پھر تاریں چلی جائیں کہ خلیفہ پر ایک اور مقدمہ ہو گیا ہے فوراً چلے آؤ۔اور پھر اس سے فارغ ہو کر جائیں تو کوئی اور کہہ دے کہ میں خلیفہ پر یہ الزام لگا تا ہوں اور لوگ ابھی بعض رستوں میں ہی ہوں اور بعض ابھی پہنچے ہی ہوں کہ پھر تاریں چلی جائیں کہ فوراً آجاؤ پھر آزاد کمیشن بیٹھنے لگا ہے۔پھر یہ بھی سوال ہے کہ آیا ہر الزام پر آزاد کمیشن چاہئے یا