خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 150
خلافة على منهاج النبوة ۱۵۰ جلد سوم اور سب سے بڑھ کر لطیفہ یہ ہے کہ کہتے ہیں ہمیں منافق نہ کہا جائے۔لیکن اسی اشتہار میں جس میں امارت کا اعلان بھی کیا گیا ہے یہ بھی لکھا ہے کہ جو شخص خلیفہ کی بیعت میں رہتے ہوئے بھی ہمارے ساتھ ملنا چاہے اُس کا نام پوشیدہ رکھا جائے گا۔گویا وہ صرف منافق ہی نہیں بلکہ منافق گر ہیں۔وہ لوگوں کو یہ تعلیم دیتے ہیں کہ تم بظاہر خلیفہ کی بیعت میں رہوا اور خدا تعالیٰ کو حاضر و ناظر جان کر عہد کر لو کہ ہم ہر ایک نیک بات میں آپ کی فرمانبرداری کریں گے۔سَمْعًا وَّ طَاعَةً کے نعرے بھی لگا ؤ، مگر در پردہ ہم سے ملے رہو اور پھر ساتھ ہی کہتے ہیں کہ ہمیں منافق نہ کہو۔یہ تو صحیح ہے کہ جس جماعت کا کوئی نظام نہ ہو اُس کے افراد خفیہ بیعت کر سکتے ہیں جیسے کہ سید محمد علی شاہ صاحب مرحوم کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے خفیہ بیعت کی اجازت دی تھی۔مگر شاہ صاحب کسی اور پیر کے مرید تو نہ تھے وہ ایک آزاد آدمی تھے ان کی خفیہ بیعت کسی عہد کو باطل نہ کرتی تھی۔ایسے شخص کو اگر کوئی مجبوری ہو تو اختیار ہے کہ چاہے اپنے عقیدہ کو ظاہر کرے اور چاہے چُھپائے۔مگر ظاہر میں کسی اور کے ساتھ بیعت کا رشتہ قائم کر کے در پردہ کسی اور سے تعلق رکھنا ہرگز ہرگز جائز نہیں۔اگر ایک شخص کا مکان کسی کے پاس رہن نہیں تو اسے اختیار ہے کہ چاہے اپنا مکان خفیہ طور پر اسے رہن کر دے اور چاہے ظاہرا کر دے لیکن جس کا مکان پہلے سے رہن ہے وہ اگر خفیہ طور پر کسی دوسرے کے پاس رہن کر دیتا ہے تو ہر شخص کہے گا کہ یہ پکا بدمعاش ہے۔پس ایک طرف بیعت کرنے والا دوسری طرف ملے تو یقینا وہ منافق ہے۔ہاں جو کسی سلسلہ میں شامل نہیں وہ اگر خفیہ طور پر کسی سے ملتا ہے تو یہ اور بات ہے۔صحابہ اس امر کا اس قدر لحاظ رکھتے تھے کہ ایک دفعہ قیصر روم کا ایلچی حضرت عمرؓ کے پاس آیا اور چاہا کہ اسلام قبول کرے۔انہوں نے اس سے صاف انکار کیا اور فرمایا اس وقت تم قیصر کے ایچی ہو۔اس وقت تمہارا اسلام میں داخل ہونا بد دیانتی ہوگا۔واپس جا کر استعفیٰ دے کر آؤ تو پھر تم کو اسلام میں داخل کرلوں گا۔پھر مصری صاحب کہتے ہیں کہ جماعت ایک آزاد کمیشن مقرر کرے مگر یہ معلوم نہیں اس سے ان کا مطلب کیا ہے۔میں اس وقت تک ان کے اس مطالبہ کولغو سمجھتا ہوں مگر ممکن ہے ان کے ذہن میں کوئی ایسی صورت ہو جو ہمارے ذہن میں نہ ہو اور وہ ہمارے نز دیک بھی معقول