خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 146
خلافة على منهاج النبوة ۱۴۶ جلد سوم موجودہ خلفاء کے منکروں کی سزا میں ہے ، کیوں ہے؟ خدا نے اُس وقت کے خلفاء کے منکرین کے ایمان کیوں ضائع نہ کئے اور آج جو خلفاء کا انکار کرتا ہے اس کا ایمان کیوں ضائع ہو جاتا ہے؟ اسی لئے کہ آج جو شخص خلفاء کا انکار کرتا ہے اور جماعت میں تفرقہ و انشقاق پیدا کرتا ہے وہ نہ صرف خلفاء کا انکار کرتا ہے بلکہ اسلام کی اُس عملی زندگی پر بھی تبر چلاتا ہے جس کو قائم کرنا خدا تعالیٰ کا منشاء ہے۔لیکن رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں اسلام کی عملی زندگی قائم ہو چکی تھی اور خلفاء کا انکار سیاسی نقصان پہنچا تا تھا۔پس چونکہ آج جو شخص خلفاء کی مخالفت کرتا ہے وہ اسلام کی عملی زندگی اور دنیا کے ایمان پر تبر چلاتا ہے اس لئے خدا تعالیٰ اس مُجرم کی سزا میں اس کا ایمان بھی ضائع کر دیتا ہے۔لیکن پہلے زمانہ میں مخالفت ، اسلام کو صرف سیاسی نقصان پہنچاتی تھی اس لئے مخالفت کرنے والوں کو دنیا میں بعض جسمانی سزائیں مل جاتیں روحانی سزا اس حد تک انہیں نہیں ملتی تھی۔مصری صاحب بے شک کہہ رہے ہیں کہ گو مجھے خلیفہ وقت سے اختلاف ہے مگر میں احمدیت پر قائم رہوں گا۔پہلوں سے یہ غلطی ہوئی ہے کہ انہوں نے اس اختلاف کو وسیع کر کے احمدیت کے خصائص بھی ترک کر دیئے۔اب میں بتاؤں گا کہ مخالفت اور اختلاف کے باوجود کس طرح احمدیت پر انسان قائم رہتا ہے۔مگر جس قسم کے گندے اعتراض وہ کر رہے ہیں اور جس قسم کے ناپاک حملوں کے کرنے کی ان کی طرف سے اور ان کے ساتھیوں کی طرف سے اطلاعیں آرہی ہیں اگر وہ ان پر مصر رہے اور اگر انہوں نے اور ان کے ساتھیوں نے تو بہ نہ کی تو میں کہتا ہوں احمدیت کیا اگر ان کے خاندانوں میں حیا بھی باقی رہی تو وہ مجھے کہیں۔بلکہ میں اس سے بھی واضح الفاظ میں یہ کہتا ہوں کہ جس قسم کے خلاف اخلاق اور خلاف حیا حملے وہ کر رہے ہیں اس کے نتیجہ میں اگر ان کے خاندان فحش کا مرکز بن جائیں تو اسے بعید از عقل نہ سمجھو۔پس میں پھر جماعت کو توجہ دلاتا ہوں کہ انہوں نے اپنے اشتہار میں جس قدر مثالیں پیش کی ہیں وہ بالکل غلط ہیں اور ان میں سے ایک بھی ان کے طریق عمل پر چسپاں نہیں ہوتی۔علاوہ ازیں خدا تعالیٰ کے فعل نے پہلے زمانہ اور اس زمانہ میں نمایاں امتیاز قائم