خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 145
خلافة على منهاج النبوة پر نہیں کیا نہ کبھی عملاً اس کی مخالفت کی )۔۱۴۵ جلد سوم حضرت طلحہ ، حضرت زبیر اور حضرت معاویہ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کی مخالفت کی مگر ان کے ایمانوں میں کوئی فرق نہیں آیا۔یہ ممکن ہے دنیا میں انہیں جسمانی طور پر بعض سزا ئیں ملی ہوں مگر ان کے ایمان ضائع نہیں ہوئے۔پھر بعض نے ان میں سے توبہ کر لی اور بعض کے متعلق ہمیں پورے حالات معلوم نہیں۔بہر حال ان میں سے کسی کے ایمان ضائع ہونے کی خبر ہمیں نہیں ملتی مگر اس زمانہ میں جس نے بھی خلفاء کی مخالفت کی آہستہ آہستہ اس کے مذہب میں بھی رخنہ پڑ گیا اور وہ اصل اسلام اور احمدیت سے بہت دور ہو گیا۔چنانچہ سب سے پہلے مولوی محمد علی صاحب اور ان کے رفقاء نے حضرت خلیفہ اسیح الاوّل کی مخالفت کی اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی وفات کے بعد سب سے پہلا جو جلسہ سالا نہ ہوا اُس میں اپنی تقریروں کے دوران میں انہوں نے آپ پر حملے کرنے شروع کر دئیے اور جماعت کے لوگوں کو اس امر کی طرف مائل کرنا شروع کر دیا کہ خدا تعالیٰ کے مامور کی مقرر کردہ جانشین اور خلیفہ صدرانجمن احمد یہ ہے حضرت خلیفہ اول نہیں۔مگر اس مخالفت کا کیا نتیجہ ہوا ؟ سعد کی طرح ان کا حال نہیں ہوا ، حضرت طلحہ ، حضرت زبیر اور حضرت معاویہ کی طرح محض حدود کے قیام تک ان کی مخالفت محدود نہیں رہی بلکہ خلافت کا انکار کرنے کے بعد انہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی نبوت کا بھی انکار کر دیا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے درجہ اور مقام کا بھی انکار کر دیا۔بعض اُن امور کا بھی انکار کر دیا جنہیں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنے عقائد میں شامل فرمایا ہے اور اس طرح ان کے مذہب میں بہت بڑا رخنہ واقع ہو گیا۔پھر مستریوں نے جب میری مخالفت کی تو انہوں نے سب سے پہلے جو اعلان کیا وہ مصری صاحب کی طرح ایک دردمندانہ اپیل ہی تھی اور اس میں لکھا کہ ہم احمدیت سے الگ نہیں ہوئے۔ہمارا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی صداقت پر کامل ایمان ہے ہمارا اختلاف صرف موجودہ خلیفہ سے ہے ورنہ یہ کب ہو سکتا ہے کہ ہم احمدیت چھوڑ دیں۔مگر پھر وہی عبدالکریم وفات مسیح کے مسئلہ پر احمدیوں سے مناظرے کرتا رہا اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے وہ بالکل الگ ہو گئے۔آخر یہ فرق جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے پہلے خلفاء کے منکروں اور