خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 144 of 644

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 144

خلافة على منهاج النبوة ۱۴۴ جلد سوم جماعت اس سبزے کی طرح ہوگی جو زمین میں سے نکلتا ہے اور نہایت ہی کمزور اور ناطاقت ہوتا ہے۔جدھر سے بھی ہوا چلتی ہے وہ اس کے دباؤ سے جھک جاتا ہے مگر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وہ آندھیاں اور ہوائیں اُسے جڑ سے نہیں اُکھاڑ سکیں گی بلکہ وہ پودا بڑھے گا اور بڑھتا چلا جائے گا یہاں تک کہ مضبوط ہو جائے گا اور دنیا کے حوادث اور مخالفت کی آندھیاں اسے اپنی جگہ سے نہیں ہلا سکیں گی۔حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد بھی خلافت قائم ہوئی اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے بعد بھی خلافت قائم ہوئی مگر ان دونوں خلافتوں میں ایک فرق بھی ہے اور وہ یہ کہ اُس وقت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں ہی اسلام کے تمام احکام عملی طور پر قائم ہو گئے تھے مگر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے بعد ان احکام کے عملی صورت میں قائم ہونے کیلئے ایک لمبا عرصہ مقدر ہے۔پس گو پہلے خلفاء کے زمانہ میں بھی اگر کوئی تفرقہ کرتا تو وہ شدید گناہ کا مرتکب ہوتا مگر عملی صورت میں یقیناً اسلامی احکام کو نقصان نہ پہنچ سکتا کیونکہ اسلامی تعلیم قائم ہو چکی تھی اسے جو بھی نقصان اور ضعف پہنچتا وہ سیاسی ہوتا۔لیکن آج اگر کوئی شخص تفرقہ پیدا کرتا اور جماعت کے اتحاد کو تباہ کرنے کے درپے ہوتا ہے تو وہ صرف تفرقہ پیدا نہیں کرتا بلکہ اسلام کو ضعف پہنچاتا اور اس کی ترقی میں زبر دست روک بنتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ خدا تعالیٰ کی سزاؤں میں بھی دونوں جگہ فرق ہے اور خدا تعالیٰ کا یہ فعل بتا رہا ہے کہ اُس زمانہ کے خلفاء اور اس زمانہ کے خلفاء کے انکار کی سزاؤں میں بہت بڑا فرق ہے۔اُس وقت جو خلافت کے مخالفین تھے وہ مذہب سے دور نہیں ہوئے مگر آج جو شخص خلافت کی مخالفت کرتا ہے وہ آہستہ آہستہ مذہب کو بھی یا تو بالکل چھوڑ دیتا ہے یا اس کے مذہب میں رخنہ پڑ جاتا ہے۔چنانچہ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کی سعد نے بیعت نہ کی۔آپ نے حکم دیا کہ ان سے قطع تعلق کر لیا جائے۔چنانچہ کوئی شخص اُن سے نہ بولتا اور نہ لین دین کے تعلقات رکھتا لیکن وہ مسجد میں آتے نماز پڑھتے اور چلے جاتے۔پھر سعد جب فوت ہوئے تو تمام مسلمانوں نے اُن کا جنازہ پڑھا اور اس طرح اُنہوں نے اپنے عمل سے بتا دیا کہ وہ انہیں مومن ہی سمجھتے تھے ( سعد نے بھی کبھی کوئی اعتراض حضرت ابو بکر پر یا نظام سلسلہ