خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 143 of 644

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 143

خلافة على منهاج النبوة ۱۴۳ جلد سوم زمانہ میں ہی اسلامی حکومت قائم ہو چکی تھی اور اس وجہ سے وہ تمام مسائل جن کا تعلق حکومت کے ساتھ ہے قائم کر دیئے گئے تھے۔مثلاً زکوۃ اور عشر کی تقسیم، لین دین کے مسائل، اقتصادیات کے متعلق احکام ، بادشاہوں کا رعایا سے تعلق اور رعایا کا بادشاہ سے تعلق۔یہ تمام امور ایسے تھے کہ ان کے متعلق شریعتِ اسلامی جن تفاصیل کی حامل ہے وہ مسلمانوں میں قائم کر دی گئی تھی۔پس حضرت علی رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں جو تفرقہ ہوا گو اس سے مسلمانوں کو سیاسی لحاظ سے کمزوری ہوئی مگر بہر حال اس تفرقہ کے نتیجہ میں جو حکومتیں قائم ہوئیں وہ اسلامی حکومتیں ہی تھیں کیونکہ اسلام عملی صورت میں دنیا میں قائم ہو چکا تھا۔مگر اس زمانہ میں اسلام کی ترقی آہستہ آہستہ مقدر ہے اور ابھی احمدی حکومتیں دنیا میں قائم نہیں ہوئیں۔زکوۃ اور خراج کے مسائل ، لین دین کے معاملات ، حکومت اور رعایا یا امیر اور غریب کے متعلق احکام ، آقا اور ملازمین کے تعلقات، رعایا کے فرائض ، اسلامی حکومت کے حقوق اور فرائض ، حکومتوں کے آپس کے تعلقات اور ورثہ اور سُود وغیرہ سینکڑوں مسائل ایسے ہیں جن کے متعلق اسلامی تعلیم دنیا میں قائم نہیں ہوئی۔پس یہ ساری عملی اسلامی زندگی ابھی پوشیدہ ہے اور اُس وقت کا انتظار کر رہی ہے جب کہ اسلامی بادشاہتیں دنیا میں پھر قائم ہوں اور ان امور کے متعلق اسلامی تعلیم کا احیاء ہو۔پس چونکہ ابھی تک حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی تعلیم دنیا میں صحیح طور پر قائم نہیں ہوئی اور نہ تمدن کے متعلق اسلام کی وہ تعلیم دنیا میں رائج ہوئی ہے جس کو کامل طور پر رائج کرنا خدا تعالیٰ کا منشاء ہے اس لئے آج اگر کوئی شخص تفرقہ کرتا اور جماعت کو پراگندہ کرنے کی کوشش کرتا ہے تو وہ صرف معمولی مجرم نہیں بلکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا قاتل ہے۔کیونکہ ابھی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی تعلیم دنیا میں قائم نہیں ہوئی اور اس کے قائم ہونے میں ایک لمبا عرصہ درکار ہے۔چنانچہ قرآن کریم میں صاف طور پر اللہ تعالیٰ حضرت مسیح موعود کی جماعت کی نسبت فرماتا ہے گزرع اخرج قطاة فازره فاستغلظ فَاسْتَوَى عَلى سُوقِهِ يُعْجِبُ الزراع " یعنی وہ