خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 134 of 644

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 134

خلافة على منهاج النبوة ۱۳۴ جلد سوم تھا کہ بیعت کرو ورنہ تمہاری گردن اُڑا دی جائے گی۔اس بیعت کو کون شخص ہے جو بیعت کہہ سکے۔پھر تاریخوں سے صاف ثابت ہے کہ جب وہ حضرت علی کی بیعت کرنے لگے تو انہوں نے کہا ہماری شرط یہ ہے کہ حضرت عثمان کے قاتلوں سے آپ بدلہ لیں۔پس چونکہ اُنہوں نے شرط کر کے بیعت کی تھی اور حضرت علی رضی اللہ عنہ ان کی شرط پوری نہ کر سکے کیونکہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کا یہ خیال تھا کہ پہلے تمام صوبوں کا انتظام ہو جائے اور پھر قاتلوں کو سزا دینے کی طرف توجہ کی جائے اور اس سے حضرت طلحہ اور حضرت زبیر نے یہ سمجھا کہ حضرت علی اپنے عہد سے پھرتے ہیں اور پھر چونکہ جبراً ان سے بیعت لی گئی تھی اس لئے وہ چوتھے دن ہی چلے گئے اور بیعت سے الگ ہو گئے۔پس یہ کہنا کہ حضرت طلحہؓ اور حضرت زبیر نے بیعت کر کے چھوڑ دی ایک مغالطہ ہے وہ بیعت نہیں تھی بلکہ جبری بیعت تھی۔اور اس کی ایسی ہی مثال ہے جیسے کسی شخص کا ہاتھ زبر دستی نیل کے مٹکے میں ڈال دیا جائے اور پھر کہنا شروع کر دیا جائے کہ اس نے اپنے ہاتھ نیلے کر لئے ہیں۔انہوں نے بھی جبراً بیعت کی تھی۔وہ خود کہتے ہیں ہم نے ایسی حالت میں بیعت کی وَالله عَلَى أَعْنَاقِنَا جبکہ تلوار میں ہماری گردنوں پر رکھی تھیں۔پھر انہوں نے بیعت پر زیادہ دیر بھی نہیں لگائی۔تیسرے یا چوتھے دن وہ سکے چلے جاتے ہیں اور کہتے ہیں چونکہ حضرت عثمان کے قاتلوں سے بدلہ نہیں لیا جاتا اور اسی شرط پر ہم نے بیعت کی تھی اس لئے ہم اپنی بیعت پر قائم نہیں رہتے۔اب بتاؤ اس میں اور مصری صاحب کی بیعت میں آیا کوئی بھی مناسبت ہے؟ اور کیا مصری صاحب سے جب بیعت لی گئی تھی تو تلوار اُن کی گردن پر رکھی گئی تھی؟ یا کیا انہوں نے کسی شرط پر میری بیعت کی تھی؟ اور کیا وہ ۲۳ سال تک میری اطاعت اور فرمانبرداری کا اقرار نہیں کرتے رہے؟ پھر ان کی اور حضرت طلحہ اور حضرت زبیر کی نسبت ہی کیا ہے کہ وہ ان کی مثال اپنے لئے پیش کرتے ہیں۔چنانچہ اس بات کا ایک اور ثبوت کہ حضرت طلحہ اور حضرت زبیر سے زبر دستی بیعت لی گئی یہ ہے کہ جب جنگ جمل ہوئی انہوں نے حضرت علیؓ کا مقابلہ کیا۔تو لکھا ہے حضرت علی