خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 135
خلافة على منهاج النبوة ۱۳۵ جلد سوم 스 رضی اللہ عنہ نے حضرت طلحہ سے کہا اما با يَعْتَنِی؟ تم نے میری بیعت نہیں کی تھی ؟ حضرت طلحہ نے کہا بَايَعْتُكَ وَ عَلَی عُنُقِى اللج ^ میں نے بیعت تو کی تھی مگر ایسی حالت میں جب تلوار میری گردن پر تھی۔مگر باوجود اس جبر کے انہوں نے بیعت کے وقت اقامتِ حد کی شرط کر لی۔گویا حضرت طلحہ اور حضرت زبیر نے جو بیعت کی وہ انہوں نے اپنی خوشی سے نہیں کی بلکه ز بر دستی ان سے بیعت کرائی گئی۔اور اس کی ایسی ہی مثال ہے جیسے جبراً کسی شخص سے کلمہ پڑھایا جائے اور پھر کہہ دیا جائے کہ وہ مسلمان ہو گیا ہے۔حضرت طلحہؓ اور حضرت زبیر کو بھی وہ تلواروں سے ڈرا دھمکا کر بلکہ سختی سے گھسیٹ کر لائے اور انہوں نے کہہ بھی دیا کہ گو ہم بیعت کرتے ہیں مگر جبر ا کرتے ہیں اور پھر اس شرط پر کرتے ہیں کہ حضرت عثمان کے قاتلوں سے بدلہ لیا جائے۔دراصل زبر دستی بیعت لوگوں نے انہیں اس لئے کرائی کہ وہ سمجھتے تھے۔دونوں صحابہ اثر و رسوخ رکھنے والے ہیں اور اگر ان دونوں نے بیعت کر لی تو باقی مسلمان بھی بیعت کر لیں گے اور عالم اسلامی میں امن قائم ہو جائے گا۔مگر کیا مصری صاحب اور ان کے رفقاء نے بھی ایسی حالت میں بیعت کی تھی کہ ان کی گردنوں پر تلوار میں تھیں؟ اور کیا انہوں نے بھی بیعت کے وقت کوئی شرط کی تھی ؟ پھر حدیثوں میں محمد وطلحہ کی روایت سے یہاں تک آتا ہے کہ بیعت کرنے کے معاً بعد حضرت طلحہ، حضرت زبیر اور بعض دوسرے صحابہ حضرت علی کے گھر گئے اور انہوں نے کہا کہ ہماری بیعت میں شرط تھی کہ حضرت عثمان کے قاتلوں پر حد قائم کی جائے گی پس آپ ان کو سزا دیں اور حضرت عثمان کے قاتلوں سے بدلہ لیں۔حضرت علی رضی اللہ عنہ نے عذر کیا اور کہا اس وقت فساد کا خطرہ ہے اور سب سے مقدم اسلام کی حفاظت ہے قاتلوں کے معاملہ میں دیر ہو جانے سے کوئی حرج نہیں۔گویا انہوں نے ایک گھنٹہ بھی انتظار نہیں کیا بلکہ ادھر بیعت کی اور اُدھر اُن کے گھر چلے گئے کہ ہماری شرط پوری کی جائے ورنہ ہم آپ کی بیعت سے آزاد ہیں۔اور یہ وہ ہیں کہ ۲۳ سال تک ان کا منہ میری تعریفیں کر کر کے سوکھتا رہا مگر آج یہ کہہ رہے ہیں کہ میرا اور طلحہ وزبیر کا معاملہ ایک ہی ہے۔میں ضمناً اس جگہ یہ بھی بتا دینا چاہتا ہوں کہ اُس زمانہ میں بیعت کا مفہوم کیا سمجھا جایا