خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 133 of 644

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 133

خلافة على منهاج النبوة ۱۳۳ جلد سوم کر لیں تو سب لوگ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی بیعت کر لیں گے ورنہ جب تک وہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی بیعت نہیں کریں گے اُس وقت تک پورے طور پر امن قائم نہیں ہوگا۔اس پر حکیم بن جبلہ کو چند آدمیوں کے ساتھ حضرت زبیر کی طرف اور مالک اشتر کو چند آدمیوں کے ساتھ حضرت طلحہ کی طرف روانہ کیا گیا۔جنہوں نے تلواروں کا نشانہ کر کے اُنہیں بیعت پر آمادہ کیا یعنی وہ تلواریں سونت کر ان کے سامنے کھڑے ہو گئے اور انہوں نے کہا کہ حضرت علی کی بیعت کرنی ہے تو کرو ورنہ ابھی ہم تم کو مارڈالیں گے۔چنانچہ انہوں نے مجبور ہو کر رضا مندی کا اظہار کر دیا اور یہ واپس آگئے۔دوسرے دن حضرت علی رضی اللہ عنہ منبر پر چڑھے اور فرمایا اے لوگو! تم نے کل مجھے ایک پیغام دیا تھا اور میں نے کہا تھا کہ تم اس پر غور کر لو۔کیا تم نے غور کر لیا ہے اور کیا تم میری کل والی بات پر قائم ہو؟ اگر قائم ہو تو یا درکھو تمہیں میری کامل فرمانبرداری کرنی پڑے گی۔اس پر وہ پھر حضرت طلحہ اور حضرت زبیر کے پاس گئے اور اُن کو زبردستی کھینچ کر لائے۔روایت میں صاف لکھا ہے کہ جب وہ حضرت طلحہ کے پاس پہنچے اور ان سے بیعت کیلئے کہا تو انہوں نے جواب دیا اِنّى إِنَّمَا أُبَايِعُ كَرُهَا دیکھو میں زبر دستی بیعت کر رہا ہوں خوشی سے بیعت نہیں کر رہا۔اسی طرح حضرت زبیر کے پاس جب وہ لوگ گئے اور بیعت کیلئے کہا تو انہوں نے بھی یہی جواب دیا کہ إِنِّي إِنَّمَا أُبَايِعُ گھا تم مجھ کو مجبور کر کے بیعت کروا ر ہے ہو دل سے میں یہ بیعت نہیں کر رہا۔اسی طرح عبدالرحمن بن جندب اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت عثمان کے قتل کے بعد اشتر ، طلحہ کے پاس گئے اور بیعت کے لئے کہا۔انہوں نے کہا مجھے مُہلت دو میں دیکھنا چاہتا ہوں کہ لوگ کیا فیصلہ کرتے ہیں مگر انہوں نے نہ چھوڑا اور جَاءَ بِهِ يَتْلُهُ تَلا عَنِيفًا ان کو زمین پر نہایت سختی سے گھسیٹتے ہوئے لے آئے جیسے بکرے کو گھسیٹا جاتا ہے۔پھر حارث الوالی کی روایت ہے کہ حضرت زبیر کو جبراً حکیم بن جبلہ بیعت کیلئے لایا تھا اور حضرت زبیر یہ کہا کرتے تھے کہ جَاءَ نِی لِصٌ مِنْ لُصُوصِ عَبْدِ الْقَيْسِ فَبَايَعْتُ وَاللجُ عَلى عُنُقِی کے یعنی عبد القیس قبیلہ کے چوروں میں سے ایک چور میرے پاس آیا اور اس کے مجبور کرنے پر اس حالت میں میں نے بیعت کی کہ تلوار میری گردن پر تھی اور مجھے کہا جاتا