خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 131
خلافة على منهاج النبوة ۱۳۱ جلد سوم حصہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا ، حضرت طلحہ اور حضرت زبیر کے ساتھ ہو گیا اور انہوں نے جنگ کیلئے ایک لشکر تیار کیا۔حضرت علی رضی اللہ عنہ کو اس بات کا علم ہوا تو آپ نے بھی ایک لشکر تیار کیا۔لیکن جب دونوں لشکر اکٹھے ہوئے تو دوسرے صحابہ نے دونوں فریق کو سمجھانا شروع کیا اور آخر صلح کا فیصلہ ہو گیا۔جب یہ خبر اس فتنہ کے بانیوں کو پہنچی تو انہیں سخت گھبراہٹ ہوئی اور انہوں نے مشورہ کیا کہ جس طرح بھی ہو صلح نہ ہونے دو کیونکہ اگر صلح ہوگئی تو ہمارے بھانڈے پھوٹ جائیں گے۔چنانچہ جب رات ہوئی تو انہوں نے صلح کو روکنے کیلئے یہ تدبیر کی کہ ان میں سے جو حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھے انہوں نے حضرت عائشہ اور حضرت طلحہ وزبیر کے لشکر پر اور جو اُن کے لشکر میں تھے انہوں نے حضرت علیؓ کے لشکر پر شبخون مار دیا اور ہر فریق نے یہ خیال کیا کہ دوسرے فریق نے اس سے دھوکا کیا ہے۔اس پر جنگ شروع ہو گئی اور دونوں فریق کے سرداروں کو میدان میں نکلنا پڑا۔یہ دیکھ کر بعض صحابہ اور رؤسا حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئے اور اُن سے کہا کہ اے عائشہ ! آپ کے سوا آج اسلامی لشکر میں کوئی صلح نہیں کر سکتا۔آپ تشریف لائیں اور صلح کرا ئیں۔چنانچہ وہ صلح کیلئے باہر نکلیں۔یہ دیکھ کر اُن شریروں اور فتنہ پردازوں نے جو یہ چاہتے تھے کہ صلح نہ ہو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے اونٹ اور ہودج پر تیر مارنے شروع کر دیے۔اس پر وہ لوگ جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت میں سرشار تھے ، آپے سے باہر ہو گئے اور انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے اونٹ کے اردگر دحلقہ باندھ لیا اور ان لوگوں کا مقابلہ کرنا شروع کر دیا جو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے اونٹ پر تیر چلا رہے تھے۔یہ دیکھ کر ایک شخص ان لوگوں میں سے ایک شخص کے پاس گیا جو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے اونٹ کے اِرد گر د حلقہ باندھے ہوئے تھا اور کہا کہ کیا تو مسلمانوں کے اوپر تیر چلائے گا ؟ وہ کہنے لگا خدا گواہ ہے میں مسلمانوں کے اوپر تیر نہیں چلانا چاہتا مگر میں اپنے آقا کی بیوی کو بھی یونہی نہیں چھوڑ سکتا۔پس شرارتیوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے اونٹ پر تیر چلائے اور بعض صحابہ نے دفاع کے طور پر حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی طرف سے دشمنوں کا مقابلہ کیا۔ورنہ تاریخی طور پر یہ ثابت ہے کہ وہ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے لڑائی