خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 130
خلافة على منهاج النبوة جلد سوم خلفاء کی بیعت کرنا یہ تفصیلاً ثابت نہیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں چونکہ مذہب کے بدلنے کا سوال ہوتا تھا اس لئے ہر فردِ واحد آپ کی بیعت کرتا تھا۔لیکن رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد جہاں تک تو میں نے تاریخ کا مطالعہ کیا ہے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ ہر مرد، ہر عورت اور ہر بچہ نے خلفاء کی دوبارہ بیعت کی ہو بلکہ جو کچھ ثابت ہے وہ یہ ہے کہ شہر کے معزز مرد بیعت کر لیا کرتے تھے اور انہی کی بیعت میں عورتوں اور بچوں کی بیعت بھی شامل سمجھی جاتی تھی۔یاممکن ہے بعض عورتیں شوقیہ طور پر یا بعض مصالح کے ماتحت بیعت میں شامل ہو جاتی ہوں لیکن ملک کے تمام مردوں ، تمام عورتوں اور تمام بچوں کے بیعت کرنے کا ثبوت کم از کم میری نگاہ سے کوئی نہیں گزرا۔پس حضرت عائشہ کا بیعت نہ کرنا کوئی اہمیت نہیں رکھتا۔عورتوں سے بلکہ دُور دراز کے مردوں سے بھی بیعت کا خاص تعہد نہ ہوتا تھا۔جب عام بیعت ہو جاتی تو باقی توابع اور عورتوں کی بیعت بیچ میں ہی شامل سمجھی جاتی تھی۔ان حالات میں جب تک کوئی یہ ثابت نہ کر دے کہ اُس زمانہ میں تمام عورتیں خلفاء کی بیعت کیا کرتی تھیں اور حضرت عائشہ نے بیعت نہ کی تھی اُس وقت تک حضرت عائشہ عنہا کے بیعت کا ثبوت تاریخ میں نہ ملنا کوئی اہمیت نہیں رکھتا۔پھر صریح طور پر تاریخوں میں آتا ہے کہ گو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کا ابتدا میں مقابلہ کرنا چاہا تھا مگر جس وقت حضرت علیؓ کے لشکر اور حضرت طلحہ اور حضرت زبیر کے لشکر میں لڑائی ہوئی ہے اُس وقت وہ لڑائی کیلئے نہیں بلکہ صلح کیلئے نکلی تھیں۔چنانچہ جتنے معتبر راوی ہیں وہ تو اتر اور تسلسل سے یہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت عائشہ اسی لئے نکلی تھیں کہ وہ دونوں لشکروں میں صلح کرائیں۔اصل بات یہ ہے کہ حضرت طلحہ اور حضرت زبیر نے حضرت علی کی اس شرط پر بیعت کی تھی کہ وہ حضرت عثمان کے قاتلوں سے جلد سے جلد بدلہ لیں گے۔یہ شرط ان کے خیال میں چونکہ حضرت علیؓ نے پوری نہ کی اس لئے شرعاً وہ اپنے آپ کو بیعت سے آزاد خیال کرتے ا تھے۔حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بھی اس سے قبل حضرت عثمان کے خون کا بدلہ لینے کیلئے جہاد کا اعلان کر چکی تھیں اور صحابہ کو اُنہوں نے اپنی مدد کیلئے طلب کیا تھا۔اس پر لوگوں کا ایک