خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 132 of 644

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 132

خلافة على منهاج النبوة ۱۳۲ جلد سوم کیلئے نہیں نکلی تھیں بلکہ آپس میں صلح کرانے اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کا مقابلہ کرنے والے لشکر کو سمجھانے کیلئے نکلی تھیں اور ان کا وہی فعل بیعت تھا۔باقی رہا یہ کہنا کہ حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ اور حضرت زبیر رضی اللہ عنہ جیسے جلیل القدر صحابہ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کی بیعت کر لینے کے بعد بیعت کو فسخ کر لیا۔مگر کوئی ہے جو جرات کر کے انہیں اسلام سے خارج قرار دے۔میں اس کے متعلق بتا چکا ہوں کہ ہم نہ انہیں غیر مسلم کہتے ہیں اور نہ مصری صاحب کو غیر احمدی کہتے ہیں۔ہاں اس سے یہ معلوم ضرور ہوتا ہے کہ انہیں غیر احمدی کہلانے کا شوق ہے اور شاید یہ پیش خیمہ ہے ان کے غیر احمدی بننے کا۔چنانچہ کچھ تعجب نہیں کہ وہ تھوڑے دنوں کے بعد ہی یہ کہنے لگ جائیں کہ چلو جب جماعت مجھے غیر احمدی سمجھتی ہے تو میں غیر احمدی ہی ہو جاتا ہوں۔ورنہ ہم نے تو آج تک ایک دفعہ بھی انہیں غیر احمدی نہیں کہا۔یا د رکھنا چاہئے کہ حضرت طلحہ اور حضرت زبیر کے متعلق جو یہ کہا گیا ہے کہ انہوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کی بیعت کو توڑا، یہ ایک غلط مثال اور تاریخ سے ان کی نا واقفیت کا ثبوت ہے۔تاریخیں اس بات پر متفقہ طور پر شاہد ہیں کہ حضرت طلحہ اور حضرت زبیر نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کی جو بیعت کی تھی وہ بیعت طوعی نہیں تھی بلکہ جبراً اُن سے بیعت لی گئی تھی۔چنانچہ حمد اور طلحہ دو راویوں سے طبری میں یہ روایت آتی ہے کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ جب شہید ہو گئے تو لوگوں نے آپس میں مشورہ کر کے فیصلہ کیا کہ جلد کسی کو خلیفہ مقرر کیا جائے تا امن قائم ہو اور فساد مئے۔آخر لوگ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس گئے اور اُن سے عرض کیا کہ آپ ہماری بیعت لیں۔حضرت علی رضی اللہ عنہ نے کہا اگر تم نے میری بیعت کرنی ہے تو تمہیں ہمیشہ میری فرمانبرداری کرنی پڑے گی اگر یہ بات تمہیں منظور ہے تو میں تمہاری بیعت لینے کیلئے تیار ہوں ورنہ کسی اور کو اپنا خلیفہ مقرر کر لو میں اُس کا ہمیشہ فرمانبردار رہوں گا اور تم سے زیادہ اُس کی اطاعت کروں گا۔انہوں نے کہا ہمیں آپ کی اطاعت منظور ہے۔آپ نے فرمایا پھر سوچ لو اور آپس میں مشورہ کر لو۔چنانچہ انہوں نے مشورہ سے یہ طے کیا کہ حضرت طلحہ اور حضرت زبیر اگر حضرت علی رضی اللہ عنہ کی بیعت