خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 97
خلافة على منهاج النبوة ۹۷ جلد سوم نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اب لڑائی میں چالیس آدمی شامل ہو جاتے ہیں۔پھر وہ چالیس اپنے ساتھ اوروں کو ملاتے اور ساٹھ بن جاتے ہیں۔ساٹھ ایک سو بیس کی کشش کا موجب بنتے ہیں اور ایک سو بیس کے شور مچانے پر دو سو چالیس کی تعداد ہو جاتی ہے۔یہ دوسو چالیس پھر چارسو استی ہو جاتے ہیں جو بڑھ کر نو سو ساٹھ کی شکل اختیار کر لیتے ہیں۔یہاں تک کہ رفتہ رفته ساری جماعت ایک معمولی وجہ سے ایسی لڑائی میں شامل ہو جاتی ہے جس کا کوئی بھی نتیجہ نہیں ہوتا اور دشمن دل میں ہنستا ہے کہ جو میری غرض تھی وہ پوری ہو گئی۔ایک مشہور واقعہ پنجاب کے ایک رئیس کا ہے جو اس مقام پر خوب چسپاں ہوتا ہے۔پنجاب کے ایک مشہور راجہ گزرے ہیں جن کا نام لینے کی ضرورت نہیں ان کے ہاں کوئی اولا د نہیں تھی۔ان کے دربار میں دو پارٹیاں تھیں۔ایک وزیر اعظم کی اور ایک اور وزیر کی اور یہ دونوں پارٹیاں روزانہ آپس میں لڑتیں اور راجہ کے پاس شکایتیں ہوتیں۔ایک پارٹی دوسری پارٹی کے خلاف شکایت کرتی اور دوسری پہلی کے خلاف راجہ کے کان بھرتی اور ہر ایک کی یہی کوشش ہوتی کہ راجہ صاحب ہمارے ساتھ مل جائیں اور دوسری پارٹی پر ناراض ہو جائیں۔اس لڑائی نے ترقی کرتے کرتے سخت بھیانک شکل اختیار کر لی۔ایک دن ایک پارٹی نے تجویز کی کہ کوئی ایسا کام کرنا چاہئے جس سے مخالف پارٹی کو بالکل کچل دیا جائے۔چنانچہ انہوں نے آپس میں مشورہ کیا اور یہ فیصلہ ہوا کہ ایک رانی کو اپنے ساتھ ملا یا جائے اور یہ مشہور کر دیا جائے کہ اُس کے ہاں اولاد ہونے والی ہے۔چنانچہ انہوں نے ایک رانی کو اپنے ساتھ ملالیا اور اُسے کہہ دیا کہ عین وقت پر ہم تمہیں ایک بچہ لا کر دے دیں گے اس سے راجہ کی نگاہ میں تمہاری عزت بھی قائم ہو جائے گی اور اس کے بعد گدی پر بیٹھنے کا بھی وہی حقدار ہوگا۔جب یہ خبر عام لوگوں میں مشہور ہو گئی تو دوسرے فریق نے راجہ کے کان بھرنے شروع کر دیئے کہ یہ بالکل جھوٹ ہے۔مہارانی حاملہ نہیں بلکہ شرارت سے مخالف پارٹی نے اسے حاملہ مشہور کر دیا ہے۔اب مہا راجہ صاحب نے بیوی کی نگرانی شروع کر دی اور کچھ عرصہ کے بعد انہیں پتہ لگا کہ یہ محض فریب کیا جا رہا ہے، رانی حاملہ نہیں ہے۔اس پر انہوں نے گورنمنٹ کے پاس اس امر کے متعلق کوشش شروع کر دی کہ جس بچہ کے متعلق مشہور کیا