خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 98 of 644

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 98

خلافة على منهاج النبوة ۹۸ جلد سوم جا رہا ہے کہ وہ پیدا ہونے والا ہے وہ میرا نہیں ہوگا اور نہ تخت کا وارث ہوگا۔یہ بات دوسرے فریق پر بھی کھل گئی اور انہوں نے مشورہ کیا کہ اب کوئی ایسی چال چلنی چاہئے جس کے نتیجہ میں ہماری سکیم فیل نہ ہو۔چنانچہ انہوں نے مختلف لوگوں سے گورنمنٹ کے پاس چٹھیاں لکھوانی شروع کر دیں کہ مہا راجہ صاحب پاگل ہو گئے ہیں اور وہ گدی کا انتظام نہیں کر سکتے۔ذرا ذرا سی بات پر لڑتے اور جوش میں آکر گالیاں دینے لگ جاتے ہیں اور ان کا غصہ حد اعتدال سے بالکل باہر نکل گیا ہے۔مہا راجہ بیچارے کو پتہ بھی نہیں اور گورنمنٹ کے پاس شکایتیں ہو رہی ہیں کہ مہا راجہ صاحب پاگل ہو گئے ہیں۔پہلے چھوٹوں کی طرف سے گورنمنٹ کو لکھا گیا۔پھر بڑے بڑے افسروں کی طرف سے اور پھر ان سے بھی بڑے عہد یداروں کی طرف سے۔جب شکایتوں کی تعداد بہت زیادہ ہوگئی اور بڑے بڑے افسروں نے خود مل کر بھی گورنمنٹ کے پاس شکایت کرنی شروع کر دی تو گورنمنٹ کو خیال پیدا ہوا کہ تحقیقات کرنی چاہئے۔چنانچہ اس نے مخفی طور پر کمشنر کو بھجوایا کہ وہ مہا راجہ سے باتیں کر کے رپورٹ کرے کہ یہ شکایتیں کس حد تک صحیح ہیں اور یہ بھی کہہ دیا کہ ڈاکٹر کو بھی ساتھ لیتے جاؤ اور باتوں باتوں میں اندازہ کر کے رپورٹ کرو کہ ان شکایتوں میں کس حد تک معقولیت ہے۔فریق مخالف جس نے شکایت کی تھی وہ چونکہ ہر تد بیر سے اپنی بات کو منوانا چاہتا تھا اس لئے اس نے سرکاری دفاتر میں بھی بعض آدمی خریدے ہوئے تھے۔جس وقت کمشنر صاحب تحقیقات کیلئے جانے لگے ، ان سرکاری آدمیوں نے اطلاع کر دی کہ کمشنر صاحب آ رہے ہیں۔چنانچہ جو نہی انہوں نے سمجھا کہ اب کمشنر صاحب کے آنے کا وقت بالکل قریب آپہنچا ہے اور ایک آدھ منٹ میں ہی وہ دربار میں داخل ہو جائیں گے انہوں نے ایک چوری کے جھلنے والے کو اشارہ کر دیا جسے انہوں نے پہلے سے اپنے ساتھ ملایا ہوا تھا اور اُس نے جھک کر مہا راجہ کے کان میں دو تین گالیاں ماں اور بہن کی دے دیں۔اب تم سمجھ سکتے ہو کہ مہا راجہ تخت پر بیٹھا ہوا ہو ، دربار لگا ہوا ہو اور چوری جھلنے والا مہا راجہ کو اُس کے کان میں ماں کی گالیاں دے دے تو اُس کی کیا کیفیت ہوسکتی ہے۔مہا راجہ جوش سے اُٹھا اور اس نے بے تحاشا اُسے مارنا شروع کر دیا۔اب غصہ سے اُس کے