خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 90 of 644

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 90

خلافة على منهاج النبوة جلد سوم حضرت ابو بکر ایک مجلس میں بیٹھے تھے۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی اس جگہ تشریف رکھتے تھے کہ ایک شخص آپ کو گالیاں دینے لگا۔آپ خاموش رہے۔جب اُس نے زیادہ بختی کی تو حضرت ابو بکر نے بھی اُس کو جواب دیا۔اس پر رسول کریم ﷺ نے فرمایا جب تک آپ خاموش رہے خدا کے فرشتے اسے جواب دیتے رہے۔لیکن جب آپ نے خود جواب دینا شروع کیا تو وہ چلے گئے۔ہے پس جس کام کو خدا نے اپنے ذمہ لیا ہوا ہوتا ہے اگر بندہ اس میں دخل دے تو خدا اسے چھوڑ دیتا ہے۔لیکن اگر بندہ صبر کرے اور یقین رکھے کہ خدا تعالیٰ جلد یا بدیر اس کا بدلہ لے لے گا تو خدا اس کا بدلہ لے لیتا ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو مکہ میں ۱۳ سال تک اور پھر مدینہ میں جا کر بھی دشمن نے گالیاں دیں اور تنگ کیا۔نہ صرف ایک دن نہ صرف ایک ماہ نہ صرف ایک سال بلکہ اس وقت تک مخالفین آپ کو گالیاں دے رہے ہیں اور تورات کی پیشگوئی کے مطابق کہ حضرت اسماعیل جو رسول کریم ﷺ کے جد امجد تھے ان کے خلاف ان کے بھائیوں کی تلوار ہمیشہ اُٹھی رہے گی۔آپ کو لوگ ہمیشہ گالیاں دیتے رہتے ہیں لیکن خدا نے اس کا علاج اپنے ذمہ لے رکھا ہے اور اس سے بہتر علاج اس کا کیا ہوسکتا ہے کہ خدا تعالیٰ ان لوگوں کو اسلام میں داخل کر دے لیکن اسلام میں داخل کر نا ہمارے اختیار میں نہیں۔مجھے ایک دفعہ ایک یہودی نے چٹھی لکھی کہ میں وہ شخص تھا کہ شاید ہی کسی کے دل میں میرے دل سے بڑھ کر محمد رسول اللہ علیہ کے متعلق دشمنی ہو بلکہ رسول کریم ﷺ کا نام سنتے ہی مجھے اشتعال پیدا ہو جاتا تھا۔لیکن آپ کے مبلغوں سے اسلام کی خوبیاں سن کر اب میری یہ حالت ہوگئی ہے کہ میں رات کو نہیں سوتا جب تک رسول کریم ﷺ پر درود نہ بھیچ لوں۔بھلا ہماری گالیوں سے سلسلہ کی کیا خدمت ہو سکتی ہے۔اگر ہم دعا کریں کہ اے خدا ! تیرا وعدہ إنَّا كَفَيْنَكَ المُستهزئين سچا ہے تو آپ اس کا علاج کر اور اس وعدہ پر اعتما درکھ کر چپ رہیں تو خدا خود ہی انتظام کرے گا۔اور اگر تم نے خود اس میں دخل دینا شروع کر دیا تو تم بیعت میں رخنہ ڈالنے والے، دین کو دنیا پر مقدم رکھنے کے وعدہ کو پس پشت ڈالنے والے اور سلسلہ کو بد نام کرنے والے ہو گے۔