خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 89
خلافة على منهاج النبوة ۸۹ جلد سوم خلاف ہے ورنہ چاہئے تھا کہ خدا کے فرشتے تمہاری مدد کرتے اور اس کا جواب دیتے۔آسمان و زمین میں ایسے سامان پیدا ہو جاتے کہ وہ باتیں پوری ہو جائیں۔اگر تم ان کو ذلیل و بے شرم کہتے تو خدا کے فرشتے بھی ان الفاظ کو دُہراتے اور ان کے دوست بھی انہیں ایسا ہی کہتے۔لیکن جب ایسا نہیں ہوتا تو معلوم ہوا کہ تمہارے سخت الفاظ محض الفاظ ہی ہیں ان میں حقائق نہیں۔اس کے مقابلہ میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حقائق پیش کئے۔دشمنوں نے آپ کو ابتر کہا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اپنے دشمنوں کو ابتر کہا۔ان کی اولادیں موجود تھیں لیکن خدا نے ایسے سامان پیدا کر دئیے کہ بعضوں کی اولا دکولڑائیوں میں ختم کر دیا اور بعض رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اولاد بن گئے اور ان لوگوں کی اولاد ندر ہے۔پنجابی میں اور بھی ابتر کو ہی کہتے ہیں۔پنجابی عورتیں بھی یہ گالیاں دیتی ہیں کہ تم اوتر ہو جاؤ۔لیکن وہ محض گالی ہوتی ہے۔ان عورتوں کی اس گالی سے کسی کے بچے نہیں مرتے۔لیکن رسول کریم ﷺ نے جن دشمنوں کو او تر کہا تو ان کی اولادیں واقعہ میں فنا ہو گئیں۔پس معلوم ہوا کہ رسول کریم ﷺ کا ابتر کہنا گالی نہ تھی بلکہ واقعہ تھا جو پورا ہوا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے بعض سخت اقوال سے دھوکا نہیں کھانا چاہئے کیونکہ انہوں نے خدا کے حکم سے وہ الفاظ کہے اور زمین و آسمان ان کے ساتھ ہو گئے۔میں دیکھتا ہوں ہماری جماعت کے بعض لوگ جب جواب دینے کیلئے کھڑے ہوتے ہیں اور دشمن اس کے جواب میں اس سے بڑھ کر گالیاں دیتا ہے تو بے غیرت بن کر اپنے گھر میں بیٹھ جاتے ہیں۔حالانکہ ان کو چاہئے تھا کہ یا تو دشمن کا منہ بند کرتے یا گالی کا جواب دینے میں ابتداء نہ کرتے۔پس میں جماعت کو نصیحت کرتا ہوں کہ ان کے اخلاق دوسروں سے ا سے اعلیٰ ہونے چاہئیں۔پیغام حق پہنچانا ، اخلاق فاضلہ پیدا کر کے دین و دنیا کی بہتری کی تجاویز سوچنا ، نیکی اور علم کو وسعت دینا اور دنیا کی تکالیف دور کرنا ان کا مقصود ہو ، تا کہ جو خدا کا مقصد سلسلہ احمد کے قیام سے ہے وہ پورا ہو۔یہ سنت ہے کہ جب خدا کا کام بندہ اپنے ذمہ لے لیتا ہے تو خدا اسے چھوڑ دیتا ہے۔