خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 91 of 644

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 91

خلافة على منهاج النبوة ۹۱ جلد سوم رسول کریم ﷺ نے فرمایا ہے کہ امام کی اطاعت کرو اور امام کے پیچھے ہو کر لڑو۔پس لڑائی کا اعلان کرنا امام کا کام ہے تمہاری غرض محض اس کی اطاعت ہے۔اگر تم ایسا نہ کرو گے تو اس تعلیم کو خود ہی رڈ کرنے والے ٹھہرو گے۔دنیا میں بعض دفعہ چھوٹی چھوٹی باتوں سے عظیم الشان لڑائیاں ہو جاتی ہیں۔جیسے آسٹریا کے شہزادہ کے قتل سے عظیم الشان جنگ ہوئی جس میں دو کروڑ سے زیادہ انسان قتل ہوئے۔پس امام جب چاہے اعلانِ جنگ کرے جب چاہے چُپ رہے۔لوگوں کو چاہئے کہ اس کے پیچھے رہیں اور خود بخو د کوئی حرکت نہ کریں۔پس میں پھر جماعت کو نصیحت کرتا ہوں اور امید رکھتا ہوں کہ وہ اپنے فرائض کی طرف متوجہ ہوگی۔میں مصلحت کو سمجھتا ہوں۔ہر بات کی دلیل بیان کرنا امام کیلئے ضروری نہیں۔جرنیل اور کمانڈر کے ہاتھ میں سارا راز ہوتا ہے۔وہ جانتا ہے کہ کہاں اور کس طرح حملہ کیا جائے۔اگر وہ راز کھول دے تو دشمن اس کا تو رسوچ لے اور ساری سکیم باطل ہو جائے۔اگر کوئی شخص بچے طور پر بیعت کرتا ہے اور اتباع کا اقرار کرتا ہے تو اس کی اہمیت کو مد نظر رکھتے ہوئے اسے اعتراض نہیں کرنا چاہئے ورنہ بیعت چھوڑ دے کیونکہ وہ منافق ہے۔پس گالیوں کا جواب نہیں دینا چاہئے ورنہ آہستہ آہستہ بڑی لڑائی شروع ہو جائے گی اور پھر امام بھی مجبور ہوگا کہ اس میں شامل ہو اور اپنی طاقت ایسی جگہ خرچ کرے جہاں وہ مناسب نہیں سمجھتا۔میں امید کرتا ہوں کہ دوست ان باتوں کی اہمیت کو سمجھیں گے۔کوئی مومن اس قدر بیوقوف نہیں ہوتا کہ اس کے غصے سے ساری جماعت کو نقصان پہنچے۔پس دوستوں کو چاہئے کہ اپنے نفس کو قابو میں رکھیں اور امام کے حکم کے منتظر رہیں۔قرآن کریم میں جب لڑائی کا حکم آیا تو بعض لوگوں نے لڑنے سے انکار کر دیا اور کہا لو تعلم قتالاً قد اتبعتكم " کہ اگر ہم جانتے کہ یہ لڑائی ہے تو ہم ضرور شامل ہوتے۔مگر یہ تو خود کشی ہے اور یہ وہی لوگ تھے جو لڑائی کیلئے زیادہ شور مچاتے تھے۔پس زیادہ شور مچانا بسا اوقات نفاق کی علامت ہوتی ہے۔ایسے لوگ جماعت کو لڑائی میں ڈال کر آپ پیچھے ہٹ جاتے ہیں اور بعض بالکل خاموش رہنے والے بعض دفعہ زیادہ مومن اور بہادر ہوتے ہیں۔حضرت ابوبکر صدیق خاموش طبیعت تھے لیکن لڑائی میں سب سے زیادہ