خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 87 of 644

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 87

خلافة على منهاج النبوة ۸۷ جلد سوم گا۔مگرا و باش کو کون بتلائے اور اسے کون سمجھائے۔وہ بتلانے والے کو بھی دس ہیں سُنا دے گا۔پس اللہ تعالیٰ نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرمایا کہ استہزاء کرنے والوں کو جواب نہ دینا ، ہم خود جواب دیں گے کیونکہ ہم تمہاری طرف سے ان لوگوں کے مقابلہ کیلئے کافی ہیں جو حقارت اور تذلیل کے ذریعہ مخالفت کرتے ہیں ایسے لوگوں کے مقابلہ میں تمہیں نہ ہمت ہے نہ طاقت نہ ہی دُنیوی ڈھنگ آتے ہیں۔ان لوگوں کی اپنی کوئی عزت نہیں ، وہ اس بڑھ کر گالیاں دیں گے اور بجائے اس کے کہ ان کے دل ٹھنڈے ہوں دشمن بدگوئی میں بڑھتا چلا جائے گا۔ایسے انسان کی زبان کو لگام نہ عزت دے سکتی ہے نہ رتبہ نہ شرافت۔کیونکہ یہ باتیں اسے میسر نہیں ہوتیں۔اگر یہ چیزیں اسے حاصل ہوں تو جواب کی اہمیت اُس کی سمجھ میں آجاتی ہے کیونکہ وہ خیال کرتا ہے کہ میری بھی عزت ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اسلام کے بعض دشمنوں میں سے ایسے ہی بعض لوگوں کو جواب دیا جو مثلاً پادری تھے اور اپنی قوم میں معزز تھے۔جبکہ وہ اسلام کے متعلق بدگوئی میں انتہا درجہ پر پہنچ گئے تا ان کو احساس ہو اور ان کی پوزیشن ان پر ظاہر ہو جائے۔چنانچہ ایسے لوگوں کے پاس ایک جماعت متفرق لوگوں کی گئی جنہوں نے ان کو کہا کہ اگر تم ایسی سختی نہ کرتے تو حضرت مسیح موعود عَلَيْهِ السَّلام کے متعلق تم کو ایسی باتیں نہ سنی پڑتیں۔جس سے ان کو شرم محسوس ہوئی اور وہ رُک گئے۔حتی کہ بعضوں نے علی الاعلان کہنا شروع کیا کہ کسی مذہب کے خلاف کچھ نہیں کہنا چاہئے۔اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ آئندہ کیلئے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف دشمنوں کی بد گوئی بہت حد تک رُک گئی۔لیکن اگر آپ بعض او باش عیسائیوں کے خلاف لکھتے تو کسی شریف نے اُن کو روکنا نہیں تھا نہ خود اُن کو اپنی عزت کا پاس ہوتا اور اس طرح وہ گالیوں میں بڑھ جاتے۔ایسے لوگوں کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے کبھی مخاطب نہیں کیا بلکہ ان کی نسبت فرمایا کہ ان کی گالیاں سن کر ان کو دعا دو۔خدا تعالیٰ بھی قرآن کریم میں فرماتا ہے کہ اِنّا كَفَيْنكَ الْمُسْتَهْزِءين ٣ کہ جو تمسخر کرتے ہیں ان میں علم اور عقل نہیں ہوتی ان کے جواب کی تم میں ہمت نہیں ہم ان کو خود جواب دیں گے۔پس ایسے لوگوں کو مخاطب کرنا بے فائدہ ہے۔