خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 86 of 644

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 86

خلافة على منهاج النبوة ۸۶ جلد سوم بچپن میں لوگ ہمیں میاں صاحب اور قادیان کے محاورہ کے مطابق میاں جی بھی کہا کرتے تھے۔پنجاب کے بعض دوسرے علاقوں میں میاں جی کو ملا بھی کہتے ہیں۔پنجاب کی اردو ریڈروں میں لکھا ہوا ہے کہ میاں جی گھوڑے پر سوار ہیں۔اُستاد کو بھی میاں جی کہتے ہیں۔بعض طالب علموں نے جو استادوں کے خلاف ہوتے ہیں انہوں نے ان کے متعلق بعض فقرے بنائے ہوئے ہوتے ہیں۔جیسے ”میاں جی سلام تہاڈی گھوڑی نوں لگام اسی طرح مجھے بھی بعض لڑکے چھیڑا کرتے۔عمر کے لحاظ سے بعض دفعہ مجھے اس پر غصہ بھی آتا لیکن خاموش رہتا۔ایک دفعہ میں گزر رہا تھا کہ ایک لڑکے نے مجھے دیکھ کر یہ فقرہ کہا۔اس پر مجھے اشتعال آیا لیکن معا خیال آیا کہ یہ بچے ہیں میرے اشتعال سے ان کو کیا فائدہ۔اگر میں نے اشتعال دکھایا تو یہی فقرہ دُہرایا جائے گا اور بچے یا درکھیں گے اور ایسا کہہ کر بھاگ جایا کریں گے۔پس میں نے اپنے نفس کو روکاشی کہ ایک دو دن کے بعد وہ بھول گئے۔پس ہر گالی قابل جواب نہیں ہوتی۔قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ فَاصْدَعْ بِمَا تُؤْمَرُ وَاعْرِضْ عَنِ الْمُشْرِكِین ہے کہ ان مشرکوں کی طرف سے گالیاں دی جائیں گی تو ان کی طرف توجہ نہ کرنا اور تبلیغ کی طرف لگے رہنا تا ایسا نہ ہو کہ اصل مقصود بُھول جائے اور ایسے کام کی طرف لگ جاؤ جس کا کچھ فائدہ نہیں۔یہ ایک عظیم الشان اور اخلاقی فلسفہ ہے جو قرآن کریم نے پیش کیا کہ وَ اعْرِضْ عَنِ الْمُشْرِكِينَ - یاد رکھنا چاہئے کہ مخالف دو قسم کے ہوتے ہیں۔ایک وہ جو کوئی اہمیت ذاتی یا پوزیشن رکھتے ہیں ان کو صداقت کی جاذبیت دیکھ کر غصہ پیدا ہوتا ہے اور وہ سخت کلامی کرتے ہیں۔اور ایک اوباش ہوتا ہے کہ اس کے مقابلہ میں سخت الفاظ کہنے سے کچھ فائدہ نہیں ہوتا کیونکہ اس کی تو عزت کوئی نہیں ، اس کی ایک گالی کے جواب میں اگر تم بھی گالی دو گے تو اس کے جواب میں وہ پانچ دے گا اور تمہاری دس گالیوں کے مقابلہ میں پچاس دے گا پھر مقابلہ کیا رہا۔وہ معزز شخص جس کے پیچھے ایک قوم ہوتی ہے اگر اُس کو اُس کی سخت کلامی کا جواب دیا جائے تو مفید ہوسکتا ہے کیونکہ اُس کے ساتھی اُس کو ملزم کریں گے اور اُس کو کہیں گے کہ غلطی تمہاری تھی، کیوں تم نے ابتداء کی اور وہ اپنی پردہ دری کے خوف سے چپ ہو جائے