خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 88 of 644

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 88

خلافة على منهاج النبوة ٨٨ جلد سوم اب قادیان کے ہند و مسلمانوں کی پوزیشن کیا ہے۔وہ قوم میں معزز نہیں۔وہ اگر گالیاں دیں تو و اعْرِضْ عَنِ الْمُشْرِكِينَ کے مطابق ایسے مشرکین سے اعراض کرنا ہئے۔ایسے شخصوں کا مقابلہ کرنے والا در حقیقت پاگل ہے اور وہ خود زیادہ گالیاں دلاتا ہے بلکہ سلسلہ کا دشمن ہے کیونکہ آپ گالیاں دلاتا اور قرآن کریم کی تعلیم کے خلاف عمل کرتا ہے۔اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے تم ان کے بڑوں کو گالیاں مت دو کہ پھر یہ بغیر علم کے تمہارے خدا کو گالیاں دینے لگ جائیں گے۔کیونکہ دشمنی کے ساتھ بعض دفعہ عقل بھی ماری جاتی ہے اور حملہ کرتے وقت صرف یہی احساس دل میں ہوتا ہے کہ دوسرے کے نقصان کی خاطر اگر اپنا نقصان بھی ہو جائے تو کوئی پرواہ نہیں۔بیسیوں لوگ ایسے ہوتے ہیں کہ دوسرے کو نقصان پہنچانے کی خاطر اپنے مکان کو آگ لگا دیتے ہیں تا کہ دوسرے کو مقدمہ میں پھنسا دیں۔کئی لوگ ایسے ہوتے ہیں کہ اپنے بیٹے کو مار دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ فلاں نے مار دیا۔پس پاگلوں کو چھیڑ نا خود پاگل پن ہے۔ہماری جماعت کو سمجھنا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ نے اُن کو ایک امام کے تابع کیا ہے اور امام خوب سمجھتا ہے کہ کہاں جواب دینا مناسب ہے اور کہاں نہیں۔ہر جگہ جواب دینے والے کی مثال گتے کی سی ہوتی ہے جو بغیر امتیاز کے بھونکتا ہے۔ایک شریف انسان کو بھی جواب دیتا ہے لیکن وہ یہ دیکھتا ہے کہ کس کو جواب دیا جائے اور کیا جواب دیا جائے۔پس یہ امام کا حق ہے کہ وہ فیصلہ کرے کہ کون سے دشمن اسلام ایسے ہیں جن کو جواب دیا جائے اور کون سے دشمن ایسے ہیں جن کے اعتراضات سننے کے باوجود خاموشی اختیار کی جائے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانہ میں بھی ایسے گالیاں دینے والے لوگ موجود تھے لیکن حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اُن کو کبھی جواب نہیں دیا۔آخر جب اللہ تعالیٰ کے حکم سے جواب دیا اور قادیان کے آریہ اور ہم کتاب لکھی تو دیکھو ان میں سے کون باقی رہا۔سب طاعون سے فنا ہو گئے۔پس اللہ تعالیٰ نے خود جواب دیا۔اس سے تم لوگ سمجھ سکتے ہو کہ اگر تمہارا جواب خدا کے حکم سے ہو تو اس کے نتیجہ میں بھی وہ بات پیدا ہو جائے۔لیکن جب پیدا نہیں ہوتی تو معلوم ہوا کہ تمہارا جواب خدا کے حکم کے