خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم) — Page 40
خلافة على منهاج النبوة جلد دوم کیا جائے یہ بات مجھے بہت بُری لگتی تھی کیونکہ میں دیکھتا تھا کہ ایک طرف تو اس کا نام تحفہ رکھا جاتا ہے اور دوسری طرف اس کے خرچ کرنے کے متعلق مجھے مشورے دیئے جار ہے ہیں اگر یہ تحفہ ہے تو اس سے مجھے اتنی تو خوشی حاصل ہونی چاہئے کہ میں نے اسے اپنی مرضی سے خرچ کیا ہے۔بہر حال میں اِس امر پر غور کرتا رہا ہوں کہ اسے کس طرح خرچ کیا جائے اور اللہ تعالیٰ نے میرے دل میں یہ بات ڈالی کہ اس سے برکاتِ خلافت کے اظہار کا کام لیا جائے۔یہ امر ثابت ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے خلفاء اس کام کے کرنے والے تھے جو آپ کے اپنے کام تھے یعنی يَتْلُوا عَلَيْهِمْ أَيته وَيُزَكِّيهِمْ وَيُعَلّمُهُمُ الكتب والحِكْمَةَ کے قرآن کریم میں رسول کریم کے چار کام بیان کئے گئے ہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ کے نشان بیان کرتا ہے ، ان کا تزکیہ کرتا ، ان کو کتاب پڑھاتا اور حکمت سکھاتا ہے۔کتاب کے معنے کتاب اور تحریر کے بھی ہیں اور حکمت کے معنی سائنس کے بھی اور قرآن کریم کے حقائق و معارف اور مسائل فقہ کے بھی ہیں۔پھر میں نے خیال کیا کہ خلیفہ کا کام استحکام جماعت بھی ہے اس لئے اس روپیہ سے یہ کام بھی کرنا چاہئے۔بے شک بعض کام جماعت کر بھی رہی ہے مگر یہ چونکہ نئی چیز ہے اس سے نئے کام ہونے چاہئیں اور اس پر غور کرنے کے بعد میں نے سوچا کہ ابھی کچھ کام اس سلسلہ میں ایسے ہیں کہ جو نہیں ہو رہے۔مثلاً یہ نہیں ہو رہا کہ غیر مسلموں کے آگے اسلام کو ایسے رنگ میں پیش کیا جائے کہ وہ اس طرف متوجہ ہوں چنا نچہ میں نے ارادہ کیا کہ یہ سلسلہ پہلے ہندوستان میں اور پھر بیرونِ ممالک میں شروع کیا جائے اور اس غرض سے ایک ، چار یا آٹھ صفحہ کا ٹریکٹ لکھا جائے جسے لاکھوں کی تعداد میں ہندوستان کی مختلف زبانوں میں چھپوا کر شائع کیا جائے۔اس وقت تک ان زبانوں میں ہمارا تبلیغی لٹریچر کافی تعداد میں شائع نہیں ہوا۔اُردو کے بعد میرا خیال ہے سب سے زیادہ اس ٹریکٹ کی اشاعت ہندی میں ہونی چاہئے۔ابھی تک یہ سکیم میں نے مکمل نہیں کی۔فوری طور پر اس کا خاکہ ہی میرے ذہن میں آیا ہے۔میں چاہتا ہوں کہ کم سے کم ایک لاکھ اشتہار یا ہینڈ بل وغیرہ اذان اور نماز کی حقیقت اور فضیلت پر شائع کئے جائیں تا ہندوؤں کو سمجھایا جا سکے کہ جس وقت آپ لوگ