خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 39 of 498

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم) — Page 39

خلافة على منهاج النبوة ۳۹ جلد دوم ہمارے ساتھ شامل ہونے کے لئے آ رہی ہیں۔اس کے بعد حضرت میر محمد اسحاق صاحب سٹیج پر تشریف لائے اور کہا کہ پروگرام میں اس وقت میری کوئی تقریر نہیں لیکن حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی نظم آمین کے جو ابھی پڑھی گئی ہے ایک شعر کے متعلق میں مختصراً کچھ عرض کرنا چاہتا ہوں۔اس وقت جماعت کی طرف سے حضرت خلیفۃ اصسیح الثانی کی خدمت میں ایک حقیر سی رقم پیش کی جانے والی ہے جس سے حضور کی وہ دُعا کہ دے اس کو عمر و دولت کی قبولیت بھی ظاہر ہو گی۔آج ہم حضور کی خلافت پر پچیس سال گزرنے پر حضور کی خدمت میں حقیر سی رقم پیش کرتے ہیں اور میں آنریبل چوہدری سر محمد ظفر اللہ خان صاحب کی خدمت میں عرض کرتا ہوں کہ و تشریف لا کر یہ رقم حضور کی خدمت میں پیش کریں۔وہ اس کے بعد جناب چوہدری صاحب نے چیک کی صورت میں یہ رقم پیش کی اور کہا حضور اسے قبول فرمائیں اور جس رنگ میں پسند فرمائیں اسے استعمال کریں اور حضور مجھے اجازت دیں کہ میں دوستوں کے نام پڑھ کر سُنا دوں جنہوں نے اس فنڈ میں نمایاں حصہ لیا ہے تا حضور خصوصیت سے ان کے لئے دُعا فرمائیں۔اور حضور کی اجازت سے جناب چوہدری صاحب نے وہ نام پڑھ کر سنائے۔اس کے بعد حضور نے فرمایا :۔میں نے جو کہا تھا کہ جس وقت آمین پڑھی جارہی تھی میرے دل میں ایک تحریک ہوئی تھی وہ دراصل یہ مصرع تھا جس کا ذکر میر صاحب نے کیا ہے مگر چونکہ ابھی تک وہ رقم مجھے نہ دی گئی تھی اس لئے میں نے مناسب نہ سمجھا کہ پہلے ہی اس کا ذکر کروں۔اس کے لئے میں سب کا شکر یہ ادا کرتا ہوں اور یہ کہنا چاہتا ہوں کہ ہماری حقیقی دولت تو دین ہی ہے دین کے بغیر دولت کوئی چیز نہیں اور اگر دین ہو اور دولت نہ ہو تو بھی ہم خوش نصیب ہیں۔مجھے یہ علم پہلے سے تھا کہ یہ رقم مجھے اس موقع پر پیش کی جائے گی اور اس دوران میں میں یہ غور بھی کرتا رہا ہوں کہ اسے خرچ کس طرح کیا جائے لیکن بعض دوست بہت جلد باز ہوتے ہیں اور وہ اس عرصہ میں مجھے کئی مشورے دیتے رہے کہ اسے یوں خرچ کیا جائے اور فلاں کام پر صرف