خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم) — Page 41
خلافة على منهاج النبوة ۴۱ جلد دوم مساجد کے سامنے سے باجہ بجاتے ہوئے گزرتے ہیں تو مسلمان یہ کر رہے ہوتے ہیں۔یہ بات معقول رنگ میں ان کے سامنے پیش کی جائے کہ مسلمان تو یہ کہہ رہے ہوتے ہیں کہ اللہ سب سے بڑا ہے اور آپ اُس وقت ڈھول کے ساتھ ڈم ڈم کا شور کرتے ہیں۔آپ سوچیں کہ کیا یہ وقت اس طرح شور کرنے کیلئے مناسب ہوتا ہے؟ جب یہ آواز بلند ہو رہی ہو کہ خدا تعالیٰ سب سے بڑا ہے تو اُس وقت چُپ ہو جانا چاہئے یا ڈھول اور باجہ کے ساتھ شور مچانا چاہئے ؟ تو ان کو ضرور سمجھ آ جائے گی کہ ان کی ضد بے جا ہے اور اس طرح اس سے ہندو مسلمانوں میں صلح و اتحاد کا دروازہ بھی کھل جائے گا۔تعلیم یافتہ غیر مسلم اب بھی ان باتوں کو اچھی طرح سمجھتے ہیں۔اسی طرح میں نے جلسہ ہائے سیرت کی جو تحریک شروع کی ہوئی ہے اسے بھی وسعت دینی چاہئے یہ بھی بہت مفید تحریک ہے اور سیاسی لیڈر بھی اسے تسلیم کرتے ہیں۔با بوبین چندر پال کانگرس کے بہت بڑے لیڈروں میں سے ہیں انہوں نے ان جلسوں کے متعلق کہا تھا کہ یہ ہندو مسلم اتحاد کے لئے بہترین تجویز ہے اور میں ان جلسوں کو سیاسی جلسے کہتا ہوں اس لئے کہ ان کے نتیجہ میں ہندو مسلم ایک ہو جائیں گے اور اس طرح دونوں قوموں میں اتحاد کا دروازہ کھل جائے گا۔میرا ارادہ ہے کہ ایسے اشتہار ایک لاکھ ہندی میں ، ایک لاکھ گورمکھی میں، پچاس ہزار تامل میں اور اسی طرح مختلف زبانوں میں بکثرت شائع کئے جائیں اور ملک کے ایک سرے سے دوسرے سرے تک اسلام کے موٹے موٹے مسائل غیر مسلموں تک پہنچا دیئے جائیں۔اشتہا ر ا یک صفحه، دوصفحه یا زیادہ سے زیادہ چار صفحہ کا ہو اور کوشش کی جائے کہ ہر شخص تک اسے پہنچا دیا جائے اور زیادہ نہیں تو ہندوستان کے ۳۳ کروڑ باشندوں میں سے ہر ایک کے ہاتھ میں ایک ایک اشتہار پہنچ جائے یہ اسلام کی بہت بڑی خدمت ہوگی۔اسی طرح میرا ارادہ ہے کہ ایک چھوٹا سا مضمون چار یا آٹھ صفحات کا مسلمانوں کیلئے لکھ کر ایک لاکھ شائع کیا جائے جس میں مسلمانوں کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی آمد اور آپ کے دعاوی سے آگاہ کیا جائے اور بتایا جائے کہ آپ نے آ کر کیا پیش کیا ہے تا لوگ غور کر سکیں۔پہلے یہ کام چھوٹے پیمانہ پر ہوں مگر کوشش کی جائے کہ آہستہ آہستہ