خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم) — Page 460
خلافة على منهاج النبوة ۴۶۰ جلد دوم انتخاب میں ہرگز نہیں آسکے گا۔ایک تو اس لئے کہ انہوں نے پروپیگینڈا کیا ہے اور دوسرے اس لئے کہ اس بنا پر اُن کو جماعت سے خارج کیا گیا ہے۔پھر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی ایک خواب بھی بتاتی ہے کہ اس خاندان میں صرف ایک ہی پھانک خلافت کی جانی ہے اور پیغام صلح نے بھی تسلیم کر لیا ہے کہ اس سے مراد خلافت کی پھانک ہے۔پس میں نفی کرتا ہوں حضرت خلیفہ اول کی اولاد کی اور ان کے پوتوں تک کی یا تمام ایسے لوگوں کی جن کی تائید میں پیغامی یا احراری ہوں یا جن کو جماعت مبائعین سے خارج کیا گیا ہو۔اور اثبات کرتا ہوں منکم کے تحت آنے والوں کا یعنی جو خلافت کے قائل ہوں چاہے وہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی جسمانی ذریت ہوں یا روحانی ذریت ہوں۔تمام علمائے سلسلہ احمدیہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی روحانی ذریت ہیں اور جسمانی ذریت تو ظاہر ہی ہوتی ہے ان کا نام خاص طور پر لینے کی ضرورت نہیں۔یہ لوگ کہتے ہیں کہ اپنے بیٹوں کو خلیفہ بنانا چاہتا ہے۔اب روحانی ذریت حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی دس لاکھ ہے اور جسمانی ذریت میں سے اس وقت صرف تین فرد زندہ ہیں ایک داماد کو شامل کیا جائے تو چار بن جاتے ہیں۔اتنی بڑی جماعت کے لئے میں یہ کہہ رہا ہوں کہ ان میں سے کوئی خلیفہ ہو۔اس کا نام اگر یہ رکھا جائے کہ میں اپنے فلاں بیٹے کو کرنا چاہتا ہوں تو ایسے قائل سے بڑا گدھا اور کون ہوسکتا ہے۔میں تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی ذریت جسمانی کے چار افراد اور دس لاکھ اس وقت تک کی روحانی ذریت کو خلافت کا مستحق قرار دیتا ہوں ( جو ممکن ہے میرے مرنے تک دس کروڑ ہو جائے ) سو جو شخص کہتا ہے کہ اس دس کروڑ میں سے جو خلافت پر ایمان رکھتے ہوں کسی کو خلیفہ چن لو اُس کے متعلق یہ کہنا کہ وہ اپنے کسی بیٹے کو خلیفہ بنانا چاہتا ہے نہایت احمقانہ دعوی ہے۔میں صرف یہ شرط کرتا ہوں کہ منكُمُ کے الفاظ کو مد نظر رکھتے ہوئے کوئی خلیفہ چنا جائے اور چونکہ حضرت خلیفہ اول کی نسل نے ثابت کر دیا ہے کہ وہ پیغامیوں کے ساتھ ہیں اور پیغامی ان کے ساتھ ہیں اور احراری بھی ان کے ساتھ ہیں اور غزنوی خاندان جو کہ سلسلہ کے ابتدائی دشمنوں میں سے ہے اُن کے ساتھ ہے اس لئے وہ منظم نہیں رہے ان میں