خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم) — Page 461
خلافة على منهاج النبوة ۴۶۱ جلد دوم سے کسی کا خلیفہ بننے کے لئے نام نہیں لیا جائے گا۔اور یہ کہ دینا کہ ان میں سے خلیفہ نہیں ہو سکتا یہ اس بات کے خلاف نہیں کہ خلیفہ خدا بناتا ہے سوال یہ ہے کہ جب خلیفہ خدا بناتا ہے تو ان کے منہ سے وہ باتیں جو خلافت کے خلاف ہیں کہلوائیں کس نے ؟ اگر خدا چاہتا کہ وہ خلیفہ بنیں تو ان کے منہ سے یہ باتیں کیوں کہلواتا ؟ اگر خدا چاہتا کہ وہ خلیفہ بنیں تو اُن کی یہ باتیں مجھ تک کیوں پہنچا دیتا ، جماعت تک کیوں پہنچا دیتا؟ یہ باتیں خدا کے اختیار میں ہیں اس لئے ان کے نہ ہونے سے بھی ثابت ہوتا ہے کہ خلیفہ خدا ہی بناتا ہے اور جماعت احمد یہ مبائعین میں سے کسی کا خلیفہ ہونا بھی بتاتا ہے کہ خدا خلیفہ بناتا ہے۔دونوں باتیں یہی ثابت 09 کرتی ہیں کہ خدا ہی خلیفہ بناتا ہے۔بہر حال جو بھی خلیفہ ہو گا وہ مِنْكُم ہوگا۔یعنی وہ خلافت احمدیہ کا قائل ہوگا اور جماعت مبائعین میں سے نکالا ہوا نہیں ہوگا۔اور میں یہ بھی شرط کرتا ہوں کہ جو بھی خلیفہ چنا جائے وہ کھڑے ہو کر یہ قسم کھائے کہ میں خلافت احمدیہ پر ایمان رکھتا ہوں اور میں خلافتِ احمدیہ کو قیامت تک جاری رکھنے کے لئے پوری کوشش کروں گا اور اسلام کی تبلیغ کو دنیا کے کناروں تک پہنچانے کے لئے انتہائی کوشش کرتا رہوں گا اور میں ہر غریب اور امیر احمدی کے حقوق کا خیال رکھوں گا اور اگر میں بد نیتی سے کہہ رہا ہوں یا اگر میں دانستہ ایسا کرنے میں کوتاہی کروں تو خدا کی مجھ پر لعنت ہو۔جب وہ یہ قسم کھالے گا تو پھر اس کی بیعت کی جائے گی اس سے پہلے نہیں کی جائے گی۔اسی طرح منتخب کرنے والی جماعت میں سے ہر شخص حلفیہ اعلان کرے کہ میں خلافتِ احمدیہ کا قائل ہوں اور کسی ایسے شخص کو ووٹ نہیں دونگا جو جماعت مبائعین میں سے خارج ہو یا اس کا تعلق غیر مبائعین یا غیر احمد یوں سے ثابت ہو۔غرض پہلے مقررہ اشخاص اس کا انتخاب کریں گے اس کے بعد وہ یہ قسم کھائے گا کہ میں خلافت احمد یہ حقہ پر ایمان رکھتا ہوں اور میں ان کو جو خلافت احمدیہ کے خلاف ہیں جیسے پیغامی یا احراری وغیرہ باطل پر سمجھتا ہوں۔آب ان لوگوں کو دیکھ لو۔ان کے لئے کس طرح موقع تھا میں نے مری میں خطبہ پڑھا اور اس میں کہا کہ صراط مستقیم پر چلنے سے سب باتیں حل ہو جاتی ہیں۔یہ لوگ بھی صراط مستقیم پر چلیں اور اس کا طریق یہ ہے کہ پیغامی میرے متعلق کہتے ہیں کہ یہ حضرت خلیفہ اول کی ہتک