خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم) — Page 432
خلافة على منهاج النبوة ۴۳۲ جلد دوم ہے۔میں نے عرض کیا مولوی صاحب حضرت صاحب تو فرما چکے ہیں کہ میں اپنا خرچ خود برداشت کروں گا پھر اعتراض کیسا؟ فرمانے لگے آگے تو سنو! میں نے کہا فرمائیے۔کہنے لگے کہ دیکھو اب خلیفہ تو نَعُوذُ بِاللهِ مِنْ ذلِكَ ( اپنا دماغ کھو چکا ہے وہ اس قابل نہیں کہ خلیفہ رکھا جا سکے میں بجبر خاموش رہا تا سارا ماجرا سن سکوں اور جو گفتگو یہ کرنا چاہتے ہیں وہ رہ نہ جائے۔میں نے کہا مولوی صاحب بھلا یہ تو بتائیے کہ اب اور کون خلیفہ ہوسکتا ہے؟ کہنے لگے کہ میاں بشیر احمد صاحب اور چوہدری ظفر اللہ خان صاحب کیا کم ہیں۔اب میں نہیں رہ سکا تو میں نے کہا مولوی صاحب ! آپ تو ایک بہت بزرگ ہستی کے فرزند ہیں آپ کو اتنا بھی علم نہیں کہ ایک خلیفہ کی موجودگی میں دوسرا خلیفہ نہیں ہو سکتا۔اللہ تعالیٰ سے دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ حضور کو جلد صحت عطا فرمائے۔مولوی صاحب فرمانے لگے کہ بھئی اب تو یہ ممکن ہی نہیں۔میں نے یہ بھی کہا کہ ایک خلیفہ کی موجودگی میں دوسرا خلیفہ بنانا تو کجا خیال کرنا بھی گناہ ہے چہ جائیکہ آپ ایسی باتیں کر رہے ہیں اور میرے لئے یہ امر نہایت تکلیف دہ ہو گیا ہے۔۔۔پھر فرمانے لگے سنو ! سنو! میں نے عرض کیا کہ چونکہ میں نے سمن آباد جانا ہے اور نیلا گنبد سے بس لینی ہے اس لئے کچھ اور کہنا ہے تو چلتے چلتے بات کیجئے۔کہنے لگے کہ دیکھو یہ جو مضامین آجکل چھپ رہے ہیں انہیں میاں بشیر احمد صاحب درست کر کے پریس کو بھیجتے ہیں وہ خود تو لکھ ہی نہیں سکتے پھر یہ عجیب بات ہے کہ انہی میاں صاحب کو حضرت صاحب اپنے کمرہ میں سلاتے ہیں۔میں اس معمہ کو نہیں سمجھ سکا۔اس کے علاوہ بھی اور کئی ایسی باتیں کہیں جو میں بھول گیا۔میں نے اگلے دن سارا واقعہ چوہدری اسد اللہ خان صاحب کو ہائیکورٹ میں جا کر سنایا۔انہوں نے فرما یا لکھ دو۔میں نے وہیں بیٹھ کر لکھ دیا جو مجھے اُس وقت یا دتھا۔چوہدری صاحب نے فرمایا کہ آپ مولوی صاحب کے سامنے بھی یہی بیان دیں گے۔میں نے عرض کیا کہ میں نے آپ کو لکھ دیا ہے۔آپ میرے ساتھ جو دھامل بلڈنگ چلیں اور انہیں میری موجودگی میں پڑھا دیں چنانچہ ہم دونوں گئے۔مولوی صاحب اپنی دکان میں موجود نہ تھے ہم انتظار کرتے رہے کچھ دیر کے بعد مولوی صاحب تشریف لے آئے۔میرا خط چوہدری صاحب نے مولوی صاحب کو پڑھایا۔مولوی صاحب کا رنگ زرد ہو گیا کچھ سکتے