خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم) — Page 433
خلافة على منهاج النبوة ۴۳۳ جلد دوم لکھتا کے بعد فرمانے لگے نہیں میں نے نہیں کہا۔چوہدری صاحب نے فرما یا لکھ دیجئے کہنے لگے اچھا لکھ دیتا ہوں۔چنانچہ ان کے دفتر کا کاغذ لے کر مولوی صاحب نے لکھا کہ میں نے ہرگز کوئی ایسی بات نہیں کی جس کے متعلق حاجی صاحب نے لکھا ہے۔چوہدری صاحب فرمانے لگے کیا آپ اب بھی مصر ہیں؟ میں نے کہا ہاں اور مجھے یہ کاغذات دیجئے میں اس پر مزید کہ ہوں۔چنانچہ میں نے یہ الفاظ لکھے کہ مجھے سخت صدمہ ہوا کہ مولوی صاحب ایک ایسی بزرگ ہستی کی اولاد ہیں جو ہمارے خلیفہ اول رہ چکے ہیں انہوں نے صریح جھوٹ بول کر مجھے ہی نہیں بلکہ حضرت خلیفہ اول کی روح کو بھی تکلیف پہنچائی ہے مجھے ان سے یہ توقع نہ تھی کہ انکار کریں گے۔مجھے معا خیال ہوا کہ اگر احمدیت کا یہی نمونہ ہے تو غیر از جماعت لوگوں پر اس کا کیا اثر ہو گا۔چنانچہ یہ دونوں تحریریں جناب چوہدری اسد اللہ خان صاحب اپنے ساتھ لے گئے۔خط مورخہ ۱۹۵۶ء۔۷ - ۲۹) مکرم میاں غلام غوث صاحب اسی طرح میاں غلام غوث صاحب ہیڈ کلرک میونسپل کمیٹی ربوہ کی گواہی ہیڈ کلرک میونسپل کمیٹی ربوہ کی شہادت قابل ذکر ہے وہ لکھتے ہیں :۔تقریباً تین چار ماہ کا عرصہ گزرا ہے تاریخ یاد نہیں حضرت ڈاکٹر مرزا منور احمد صاحب آنریری سیکرٹری میونسپل کمیٹی ربوہ نے مجھے حکم دیا تھا کہ میں مکرم مولوی عبد المنان صاحب انچارج صیغہ تالیف و تصنیف تحریک جدید ربوہ کی خدمت میں حاضر ہو کر حضرت میاں منور احمد صاحب کے دستخطوں کی شناخت کروں جو انہوں نے کسی غلط تعمیر کے سلسلہ میں کمیٹی کے قواعد کے تحت مولوی عبد المنان صاحب کو دیئے تھے چنانچہ فدوی وہاں گیا اور مولوی عبدالمنان صاحب نے فرمایا کہ دیکھو یہ دونوں نوٹس موجود ہیں اور دستخط میاں منور احمد صاحب کے ہیں ان دونوں میں کتنا تفاوت ہے ان میں سے کون سا صحیح ہے اور کون سا غلط ؟ ( اُس وقت میرے ساتھ والی کرسی پر چوہدری شبیر احمد صاحب نائب وکیل المال تحریک جدید بھی تشریف فرما تھے اور ہم دونوں مولوی عبد المنان صاحب کے سامنے بیٹھے تھے ) بندہ نے عرض کیا کہ چونکہ میں شروع سے کمیٹی میں حضرت میاں منور احمد صاحب کے ماتحت کام کر