خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم) — Page 431
خلافة على منهاج النبوة ۴۳۱ جلد دوم مولوی علی محمد اجمیری کے نام ۷ ۸ روپے ۸ آنے ، حمید ڈاڈھا کے نام ۳۵ روپے اور م رسول چک ۳۵ کے نام ۵۰ روپے پیشگی دئیے جانے ثابت ہیں۔اس طرح نفرت اور لالچ دونوں جذبات اکٹھے ہو گئے اور ان لوگوں نے میاں عبد المنان کی تائید میں پرو پیگنڈا شروع کر دیا جس طرح بعض منافقوں نے حضرت عمر کی زندگی میں پرو پیگنڈا شروع کیا تھا کہ جب حضرت عمر فوت ہوں گے تو ہم فلاں کی بیعت کریں گے۔لیکن وہ بھی خائب و خاسر رہے اور یہ بھی خائب و خاسر رہیں گے اور اللہ تعالیٰ خلافت احمدیہ کی خود حفاظت کرے گا اور جماعت کی خود را ہنمائی کرے گا اور وہ کبھی ان منافقوں یا پیغامیوں کے چیلوں یا احراریوں کے چیلوں کو قریب بھی نہیں آنے دے گا۔جب ۱۹۵۵ء میں مجھ پر فالج کا حملہ ہوا تو یہ بغض اور زیادہ زور سے ظاہر ہونے لگا جیسا که شیخ نصیر الحق صاحب کی گواہی سے ظاہر ہے جو ذیل میں درج کی جاتی ہے۔شیخ بیج۔مکرم شیخ نصیر الحق صاحب کی گواہی ملا صاحب لکھتے ہیں:۔شیخ سید نا و اما منا حضرت۔۔۔۔۔۔۔رت المصلح الموعود خلیفة المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز ! السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكَاتُهُ جب حضور لاہور سے کراچی تشریف لے گئے دوسرے دن شام کو آپ کی خیریت سے کراچی پہنچنے کی اطلاع حاصل کرنے کیلئے سمن آباد سے رتن باغ پہنچا میرے ساتھ میری چھوٹی بیوی بھی تھی انہیں رتن باغ ٹھہرا کر چونکہ یہاں اطلاع کو ئی نہیں ملی تھی میں جو دھامل بلڈنگ میں گیا۔لوگ مغرب کی نماز ادا کر چکے تھے اور حضور کی خیریت سے کراچی پہنچنے کے متعلق گفتگو کر رہے تھے میں مزید حالات معلوم کرنے کے لئے سید بہاول شاہ صاحب کی طرف متوجہ ہوا۔انہوں نے تار کا ذکر کیا کہ الْحَمْدُ لِلَّهِ حضور بخیریت تمام کراچی پہنچ گئے ہیں۔جب میں واپس رتن باغ کو لوٹنے لگا تا اپنی بیوی کو ساتھ لے کر گھر سمن آباد چلا جاؤں مولوی عبدالوہاب صاحب نے مجھے آواز دی کہ حاجی صاحب ٹھہر جائیں میں بھی چلتا ہوں۔مولوی صاحب نے فرمایا کہ حاجی صاحب آپ نے دیکھا کہ قوم کا کتنا روپیہ خرچ ہو رہا