خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 427 of 498

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم) — Page 427

خلافة على منهاج النبوة ۴۲۷ جلد دوم یہ جو عبد القدوس صاحب نواب شاہ کی گواہی ہے کہ میاں عبد الوہاب صاحب نے کہا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ السلام نے اپنی اولاد کے لئے دنیا مانگی اور ہمارے باپ نے ہمارے لئے دین مانگا۔اس کی مزید شہادت لاہور کی مجلس خدام الاحمدیہ نے بھجوائی ہے کہ ایک احمدی سے ایک پیغامی نے آکر کہا کہ میاں منان کہتے ہیں کہ ہم تو چپ کر کے بیٹھے ہیں کیونکہ ہمارے باپ نے ہمیں خدا کے سپرد کیا تھا اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنی اولا د کو دنیا کے سپر د کیا تھا۔یہ جوش نکال لیں سال دو سال پانچ سال خوب جوش نکالیں پھر ٹھنڈے ہو جائیں گے۔یہ شہادت بھی ہمارے پاس محفوظ ہے۔اب تم جو مبائعین کی جماعت ہوا اور جنہوں نے لکھا تھا کہ قیامت تک ہم خلافت احمدیہ کو قائم رکھیں گے تم بتاؤ کہ کیا مولوی عبدالمنان کے قول کے مطابق دو تین سال میں ٹھنڈے پڑ جاؤ گے یا قیامت تک تمہاری اولا د میں خلافت احمدیہ کا جھنڈا کھڑا رکھیں گی ؟ ( اس پر چاروں طرف سے آوازیں آئیں کہ ہم قیامت تک خلافت احمدیہ کا جھنڈا کھڑا رکھیں گے ) اکتوبر ۱۹۵۵ء میں جب صوفی مطیع الرحمن صاحب شدید ذیا بیطس سے فوت ہوئے تو رشید احمد صاحب بٹ ضلع نواب شاہ سندھ کی گواہی کے مطابق میاں عبد السلام نے کہا کہ صوفی مطیع الرحمن صاحب کا علاج نہیں کروایا گیا اس لئے مر گئے۔حالانکہ ان کو ہسپتال میں داخل کیا گیا تھا اور سینکڑوں روپیہ سلسلہ نے ان پر خرچ کیا تھا۔میاں محمد عبد اللہ صاحب سابق انجینئر ایران حال نواب شاہ لکھتے ہیں کہ میاں وہاب نے ایک دفعہ کہا کہ حضرت صاحب کی مجلس عرفان میں رکھا ہی کیا ہے۔پھر ۱۹۵۵ء کے شروع کے متعلق ملک صاحب خان صاحب نون ریٹائرڈ ڈ۔بیان کرتے ہیں کہ جب میاں عبد المنان صاحب کا مکان دوسری جگہ بننے لگا تو میں نے بھیرہ کے تعلقات کی وجہ سے ان سے کہا کہ میاں صاحب! میں نے تو آپ کی صحبت حاصل کرنے کیلئے آپ کے قریب مکان بنایا تھا مگر آپ اب کہیں اور چلے ہیں تو اس پر میاں عبدالمنان صاحب آگے بڑھے اور میرے سینہ کی طرف ہاتھ بڑھا کر ہلایا اور کہا ملک صاحب ! آپ گھبرائیں نہیں ہم جہاں بھی جائیں گے آپ کو ساتھ لے کر جائیں گے۔وہ کہتے ہیں کہ اُس