خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم) — Page 428
خلافة على منهاج النبوة ۴۲۸ جلد دوم وقت تو میں اس کا مطلب نہ سمجھا لیکن گھبرا گیا اور بعد میں جب یہ فتنہ پیدا ہوا تو میں با قاعدہ اخبار میں دیکھتا تھا کہ اس میں میاں عبد المنان کا نام بھی آتا ہے یا نہیں۔جب میں نے ان کا نام پڑھا تو استغفار پڑھا کہ ان کی یہی غرض تھی کہ مجھے بھی اس فتنہ میں ملوث کریں۔ملک صاحب سرگودہا کے مشہور خاندان ٹوانہ اور نون میں سے ہیں اور ڈپٹی کمشنر رہ چکے ہیں گوجرانوالہ سے ریٹائر ڈ ہوئے۔ملک فیروز خان صاحب نون جو اسوقت وزیر خارجہ ہیں ان کے بھتیجے ہیں چنانچہ ملک صاحب کا اصل خط اس شہادت کے سلسلہ میں ذیل میں درج کیا جاتا ہے۔ملک صاحب لکھتے ہیں :۔مکرم ملک صاحب خان صاحب نون کی شہادت میرے آقا ! سلمہ اللہ تعالی۔اَلسَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكَاتُهُ اللہ تعالیٰ آپ کو صحت کا ملہ اور عمر خضر عطا فرمائے آمین ثم آمین۔چونکہ حضور پر نور امام الوقت اور خلیفہ وقت ہیں اللہ تعالیٰ کی نصرت حضور کی تائید میں ہے اور انشاءَ اللهُ تَعَالٰی ہمیشہ رہے گی اور دشمنان خائب و خاسر اور منہ کی کھائیں گے إنْشَاءَ اللَّهُ تَعَالَى ضرور ضرور۔میں ایک واقعہ حضور کی خدمت بابرکت میں گوش گزار کرتا ہوں اور اللہ تعالیٰ گواہ ہے کہ اس میں ذرہ بھر بھی شک و شبہ نہیں بلکہ عین اصل واقعہ ہے۔جب میں نے ربوہ والے مکان کی جگہ کے متعلق حضور پر نور کے پاس شکایت کی اور حضور نے اپنے ساتھ کچے مکانوں میں مجھے اور ناظر متعلقہ (جو اُس وقت غالبًا عبد الرشید صاحب تھے ) کو بلایا میں نے حاضر ہو کر عرض کیا کہ مجھے شکایت نہیں ہے جس کی وجہ یہ تھی کہ ایک تو حضرت میاں بشیر احمد صاحب نے بہت زور دیا کہ یہی جگہ لے لوں اور دوسرے یہ کہ پسران حضرت خلیفہ اول میرے ہمسایہ تھے یہ بات میرے واسطے بہت ہی خوشی و تسلی کی ہوئی گو میں بذات خود اس جگہ کو پسند نہیں کرتا تھا خیر مکان بنایا بن گیا جب ناظر صاحبان کے مکان مکمل ہوئے تو میاں عبد المنان صاحب اس نئے مکان میں چلے گئے اور جب میں ربوہ گیا تو مجھے معلوم ہوا۔اتفاق سے منان صاحب مجھے ملے۔میں نے کہا واہ مولوی صاحب ! آپ مجھے چھوڑ کر چلے گئے تو اس