خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم) — Page 426
خلافة على منهاج النبوة ۴۲۶ جلد دوم کے مبلغ ہیں۔دوسرے چچا مولوی صالح محمد صاحب پیچھے سلسلہ کی طرف سے انگلستان بھجوائے گئے تھے آجکل مغربی افریقہ گولڈ کوسٹ ان کا تبادلہ ہو گیا ہے۔دادا کا نام فضل احمد صاحب ہے اور والد کا عبدالرحیم۔لڑکی کا ایک بھائی یہاں رہتا ہے۔کالج میں زیر تعلیم ہے اور تبلیغ کی ٹرینینگ لے رہا ہے ان کی ذات راجکمار یا راجپوت ہے میرے خیال میں رشتہ موزوں ہے۔منصور احمد اور عزیزہ نسیم کو پسند ہے۔شادی کے اخراجات کے سلسلہ میں میرا ذاتی نکتہ نگاہ یہ ہے کہ معمولی سے اخراجات کافی ہوتے ہیں۔اسلام میں تکلفات نہیں اور یہاں بھی عام حالات میں زیادہ اخراجات کی ضرورت نہ تھی لیکن اس وقت صورتِ حال یہ ہے کہ لڑکی نے اپنے ماں باپ کو چھوڑ کر ہزاروں میل دُور جانا ہے پھر وہاں کے حالات بھی لڑکی والوں کے سامنے نہیں ہیں اور سب سے بڑی بات یہ ہے کہ ابھی باقی عزیزوں کے رشتے بھی کرنے ہیں اور ضرورت ہے کہ پہلی شادی کے بعد راستے کھل جائیں اور کئی لوگوں کی نظریں اس پہلی شادی پر ہیں اور وہ دیکھ رہے ہیں کہ یہاں کیا خرچ ہوتا ہے اس سے وہ مالی اور دوسرے حالات کا اندازہ کریں گے اور میرے سامنے یہ حقیقت بھی ہے کہ سونا اور کپڑا افریقہ میں یہاں پاکستان کے مقابلہ میں سنتا ہے۔ان تمام حالات کو دیکھ کر میری رائے یہ ہے کہ شادی کے تمام اخراجات کیلئے پانچ صد پونڈ ( یعنی آجکل کے لحاظ سے سات ہزار روپیہ ) کافی ہونگے علاوہ حق مہر کے۔یہ روپیہ بذریعہ ڈرافٹ بھجوانے کی ضرورت نہیں آپ یہ روپیہ وہاں کی جماعت میں میرے نام پر جمع کرا دیں اور رسید مجھے بھجوا دیں میں یہ روپیہ یہاں منصور احمد کی والدہ کو ادا کر دوں گا تا وہ اپنی نگرانی میں زیور کپڑا وغیرہ پر صرف کریں۔پس آپ ڈرافٹ بینک نہ بھجوائیں بلکہ وہاں میرے نام پر رقم جمع کروا دیں میں یہاں سے اس کے مطابق رقم ادا کر دوں گا۔مہر انداز الر کے کی ایک سال کی آمد کے برابر ہونی چاہیے جو میرے خیال میں آٹھ ہزار روپیہ ہوگی۔خاکسار عبد المنان عمر ( دستخط ) غرض انہوں نے ادھر سلسلہ کا کچھ مال اِدھر اُدھر استعمال کیا اور کچھ لوگوں منگواتے رہے۔