خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 419 of 498

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد دوم) — Page 419

خلافة على منهاج النبوة ۴۱۹ جلد دوم " کا فر ا کفر ہے مرزا، دجال ہے مرزا، شیطان ہے مرزا، فرعون ہے مرزا ، قارون ہے مرزا ، ہامان ہے مرزا، ارڈ پوپو ہے مرزا ، وادی کا وحشی ہے مرزا ، کتا ہے جو ہانپ رہا یہ جنگلی کتا ہے۔اسے پھر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنی تصنیف ”کتاب البریہ میں اس کے خاندان کی گالیاں لکھی ہیں اور لکھا ہے کہ انہوں نے میری نسبت لکھا ہے کہ :۔ان امور کا مدعی رسولِ خدا کا مخالف ہے۔۔۔ان لوگوں میں سے ہے جن کے حق میں رسول اللہ نے فرمایا ہے کہ آخر زمانہ میں دجال کذاب پیدا ہو نگے ان سے اپنے آپ کو بچاؤ تم کو گمراہ نہ کر دیں اور بہکا نہ دیں۔اس ( قادیانی ) کے چوزے ( یعنی آپ لوگ بشمولیت حضرت مولوی نورالدین صاحب جومنان کے باپ اور مولوی اسماعیل غزنوی کے نانا اور اس گالیاں دینے والے کے بھائی کے خسر تھے ) ہنود اور نصاریٰ کے مخنث ہیں۔گویا جب مولوی عبد الواحد غزنوی کا پوتا بارڈر پر آپ لوگوں کو یہ کہنے گیا تھا کہ منان تقویٰ میں سب سے زیادہ ہے تو اس کے معنے یہ تھے کہ ہندو اور نصاریٰ کا مخنث سب سے زیادہ ہے کیونکہ جب احمدی ہنود اور نصاری کے مخنث ہیں تو اگر منان احمدی ہے اور وہ احمد یوں میں سب سے بڑا ہے تو پھر وہ ہندوؤں اور عیسائیوں کا سب سے بڑا مخنث ہے۔چوہدری ظفر اللہ خان صاحب کہتے ہیں کہ مولوی عبدالواحد کا ایک الگ فتویٰ بھی ہے جو اُس نے عدالت میں لکھوایا تھا کہ مرزا قادیانی کافر ہے اور اس کے مرید سب کا فر ہیں اور جو کوئی ان کے کفر میں شک کرے وہ بھی کا فر ہے اب مولوی محمد اسماعیل صاحب غزنوی اور مولوی داؤ د صاحب غزنوی اور خالد صاحب (ابن مولوی محمد اسماعیل صاحب ) جنہوں نے بارڈر پر جا کر بنگالی وفد کے سامنے کہا تھا کہ مولوی منان سب سے بڑے متقی ہیں بتا ئیں کہ آیا وہ کا فر ہیں یا نہیں اور آیا ان کے کفر میں شک کرنے والا بھی کا فر ہے یا نہیں۔جیسا کہ ان کے دادا نے کہا تھا ؟ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ السلام نے یہاں تک لکھا ہے کہ مولوی اسماعیل غزنوی کی ماں یعنی حضرت خلیفہ اول کی بڑی بیٹی کی وفات بھی میرے مباہلہ کے نتیجہ میں ہوئی مولوی